پنشن کا حُجم 800 ارب سالانہ، اصلاحات ضروری: وزیر خزانہ
پاکستان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے کہا ہے کہ پنشن کے حوالے سے قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔
اتوار کو قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پنشن اصلاحات ضروری ہے کیونکہ 800 ارب روپے سالانہ تک اس کا حجم بڑھ چکا ہے.
اسحاق ڈار نے وضاحت کی کہ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران دو پنشن کی صورت میں ایک پنشن وصول کر سکیں گے جبکہ ایک سے 16 گریڈ والے ملازمین پر اس کا اطلاق نہیں ہو گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ’یہاں لوگ آرمی چیف، پھر چیف ایگزیکٹو اور پھر صدر پاکستان کی پنشن لیتے رہے ہیں جس کا غریب ملک متحمل نہیں ہو سکتا، اسی طرح پنشنر کی بیوہ کے انتقال پر پسماندگان کے لیے 10 سال کی مدت مقرر کی گئی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں معاشی اصلاحات کی طرف جانا ہو گا ورنہ ایک وقت آئے گا جب یہ بوجھ ناقابل برداشت ہو گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بہت پرانا مسئلہ چل رہا تھا، ہمارا ملک غریب ہے، اس کو بہت پہلے ٹھیک ہو جانا چاہیے تھا۔

