پاکستان

فوجی عدالتوں کے مقدمے میں حکومت کا جج پر اعتراض، سات رُکنی بینچ ٹوٹ گیا

جون 26, 2023

فوجی عدالتوں کے مقدمے میں حکومت کا جج پر اعتراض، سات رُکنی بینچ ٹوٹ گیا

پاکستان کی وفاقی حکومت نے فوجی عدالتوں کا مقدمہ سُننے والے سپریم کورٹ کےسات رکنی بینچ میں شامل جسٹس منصور علی شاہ پر اعتراض کیا ہےجس کے بعد انہوں نے خود کو کیس سے الگ کر لیا۔

پیر کو مقدمے کے آغاز پر اٹارنی جنرل عثمان منصورنے عدالتی روسٹرم پر آکر بینچ کے حوالے سے وفاقی حکومت کی ہدایات سے آگاہ کیا.

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک درخواست گزار جسٹس منصور علی شاہ کے رشتہ دار ہیں اس لیے ان کے کنڈکٹ پر اثر پڑ سکتا ہے.

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی چوائس یا خواہش پر بینچ نہیں بن سکتے، آپ کس بات پر اس عدالت کے معزز جج پر اعتراض اٹھا رہے ہیں. کیا اس سب پر ہم وزیراعظم سے پوچھیں ؟اگر ایسے الزامات حکومت لگائے گی تو کیا ہوگا.

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو بدنام مت کریں، اٹارنی جنرل ایک اعلی معیار اور اچھے کردار کے وکیل ہیں،لیکن حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے بینچز پر لگاتار اعتراضات آ رہے ہیں.

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے پہلے بھی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، عدالت کے فیصلوں پر عمل اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ہمارے پاس فیصلوں پر عمل کے لیے کوئی چھڑی نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بہت سے لوگوں کے پاس چھڑی ہے لیکن ان کی اخلاقی اتھارٹی کیا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں نے تو پہلے ہی دن آکر کہا تھا کسی کو اعتراض ہے تو بتا دیں.

اٹارنی جنرل نےکہا کہ میرا ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہیں.
جسٹس منصور علی شاہ نے خود کو بینچ سے الگ کر لیا.

چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں، بینچ میں شامل رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ جج صاحب خود کریں گے۔

جسٹس منصور نے کہا کہ اعتراض کے بعد میرا اس بینچ میں شامل رہنا نہیں بنتا۔

فوجی عدالتوں میں سویلین کے خلاف ٹرائل سے متعلق 7 رکنی لارجر بینچ بھی ٹوٹ گیا.

وکیل سلمان اکرم راجہ نے استدعا کی کہ جسٹس منصور علی شاہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں اپنا کنڈکٹ اچھی طرح جانتا ہوں، کوئی ایک انگلی بھی اٹھا دے میں پھر کبھی اس بنچ کا حصہ نہیں رہتا۔

وکیل حامد خان نے کہا کہ اس موقع پر اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب معزز جج خود ہی معذرت کر چکے ہیں،

فیصل صدیقی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ جسٹس ریٹائرڈ ایم آر کیانی نے اپنے طلبا سے مذاق میں ایک بات کہی تھی، انہوں نے کہا تھا کیس ہارنے لگو تو بنچ پر اعتراض کر دو۔

فیصل صدیقی کے مطابق وفاقی حکومت اب یہی کر رہی ہے۔

بینچ سے جسٹس منصور علی شاہ کے الگ ہونے کے بعد چھ ججز نے سماعت جاری رکھی۔

جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ اصل سوال شروع دن سے ہی یہ ہے ملٹری رولز کا 2 ڈی کا نفاذ کس پر ہو گا؟

جسٹس منیب اختر نے وکیل سے پوچھا کہ کیا آپ کی دلیل یہ ہے کہ فوجی اہلکاروں کا بھی کورٹ مارشل نہیں ہو سکتا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آئین میں سویلین اور فوجی افسران کی تقسیم نہیں کی گئی، مقدمہ ایک عدالت میں چلے یا دوسری عدالت میں فیئر ٹرائل سمیت دیگر حقوق متاثر نہیں ہوتے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا کسی کا ٹرائل شروع ہوا یا نہیں؟ مفروضے کی بات کہ ٹرائل ہو گا تو یہ ہونا چاہیے وہ ہونا چاہیئے۔

وکیل نے بتایا کہ ابھی تک کسی کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل شروع نہیں ہوا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وقت محدود ہے کل کے بعد چھٹیاں ہیں، کیس چلائیں، آپ کا کیس یہ ہونا چاہیے کہ سویلین کے حقوق سلب نہیں ہونے چاہئیں، اس کیس کو مزید الجھاؤ کا شکار نہ کریں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے