پاکستان

رشتے کے تنازعے پر 9 افراد قتل، چار خواتین اور دو بچے شامل

جون 28, 2023

رشتے کے تنازعے پر 9 افراد قتل، چار خواتین اور دو بچے شامل

خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں مبینہ طور پر رشتے کے تنازعے پر گھر میں گھس کر فائرنگ سے ایک ہی خاندان کے 9 افراد کو قتل کر دیا گیا۔

نگراں وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کے اعلیٰ حکام کو تحقیقات اور قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لیے ضروری کاروائی عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے۔

واردات کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جن کی تلاش مقامی لیویز فورس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تلاش شروع کی۔

ملاکنڈ کے علاقے بٹ خیلہ کے نواح خار میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب مبینہ طور پر رشتے کے تنازعے پر مسلح افراد نے ایک گھر میں گھس کر محو خواب افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی۔

مارے جانے والوں میں چار خواتین، دو بچے اور تین مرد شامل ہیں۔ جن کی شناخت حسن شاہ، حبیب الحرم، رابعہ بی بی، حضرہ بی بی، حضرت رقیہ بی بی، حضرت علی، حضرت بلال، ضحران اور صائمہ بی بی کے ناموں سے ہوئی ہے۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی لیویز کی نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بٹ خیلہ ہسپتال منتقل کیا گیا جن کو بعدازاں ورثاء کے حوالے کر دیا گیا۔

اسسٹنٹ کمشنر بٹ خیلہ شکیل احمد خان کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ رشتے کے تنازعے کا شاخسانہ بتایا جارہا ہے۔

ملاکنڈ لیویز نے واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ علاقے میں ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا ہے۔

نو افراد کے قتل کے بعد ورثا نے پیران چوک میں احتجاج کیا اور ملزمان کی گرفتاری تک میتوں کو دفنانے سے انکار کیا۔

اسسٹنٹ کمشنر بٹ خیلہ نے دعویٰ کیا کہ تین ملزمان بریکوٹ سے گرفتار کیے جا چکے ہیں ۔

شکیل احمد خان نے کہا کہ ملزمان کو میڈیا کے سامنے پیش کریں گے جس کے بعد احتجاج ختم کیا گیا۔

انتظامیہ نے احتجاج کرنے والوں کو بتایا کہ سانحہ بگردرہ کے مرکزی ملزم سمیت تین افراد گرفتار کیے گئے۔

لیویزذرائع کے مطابق گرفتارملزمان کا تعلق بریکوٹ ضلع سوات سے ہے۔

گرفتار افراد میں اُجاڑ دیے گئے گھر کا داماد، بھائی اور والد شامل ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے