’اب بس بھی کر دیں‘، فرانس کےمتاثرہ خاندان کا پُرتشدد احتجاج ختم کرنے کا مطالبہ
فرانس میں پولیس کی فائرنگ ہلاک ہونے والے نوجوان کی نانی نے لوگوں سے احتجاج روکنے کی اپیل کی ہے جبکہ ہلاکت کے بعد شروع ہونے والا پُرتشدد احتجاج کا سلسلہ چھٹے روز میں داخل ہو گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مارے جانے والے ناہیل ایم کی نانی نادیہ نے مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فسادی منگل کو ہونے والے قتل کے واقعے کو تباہی پھیلانے کے بہانے کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا خاندان سکون چاہتا ہے۔‘
نادیہ نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ ’میں ان سے یہ سب کچھ روکنے کا مطالبہ کرتی ہوں، ناہیل مر گیا، میری بیٹی نے سب کچھ کھو دیا، اب ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے کچھ نہیں بچا۔‘
جب ان سے اس فنڈ کے بارے میں بارے پوچھا گیا جو احتجاج کرنے والوں کی جانب سے اس پولیس افسر کے خلاف کارروائی کے لیے اکٹھا کیا جا رہا ہے جس نے ناہیل ایم پر گولی چلائی تو اس کے جواب میں انہوں نے فقط اتنا کہا کہ ’میرا دل بہت دکھی ہے۔‘
2018 کے آخر میں چلنے والی ’ییلو ویسٹ‘ تحریک کے بعد سے یہ مظاہرے صدر ایمانوئل میکخواں کے لیے ایک بدترین بحران کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
ناہیل ایم اپنی والدہ کی واحد اولاد تھے جو گھروں میں کھانا پہنچانے والے ڈیلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتے تھے اور رگبی لیگ میں بھی کھیلتے تھے۔
پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو مخلتف رنگ دینے کی کوشش کی تھی تاہم جب سوشل میڈیا پر گولی مارنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو پیرس سمیت مضافاتی علاقوں میں شہریوں نے پولیس اہلکاروں کے خلاف شدید احتجاج کیا جس کا سلسلہ جاری ہے۔

