شہر کے مسائل حل کرنا ہوں گے، ریحام خان کراچی میں
ریحام خان نے کہا ہے کہ جو شخص اُن پر مقدمہ درج کروانے کی کوشش میں تھا آج اُس کا حال سب کے سامنے ہے مگر اُن کو اس پر خوشی نہیں افسوس ہے کہ ملک کا نقصان ہوا۔
کراچی کے علاقے لیاری میں مقامی لوگوں کی جانب سے منعقد ایک تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اس علاقے سے اُن کو بہت زیادہ لگاؤ ہے۔
ریحام خان نے کہا کہ اُن کی خواہش اور کوشش ہے کہ لیاری کے کھلاڑیوں کو پروموٹ کریں۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ بانی ایم کیو ایم الطاف حسین سمیت پاکستان کے کسی بھی سیاسی رہنما کے سیاست کرنے پر پابندی نہیں ہونی چاہیے، پاکستان کا آئین ہر شہری کو آزادی اظہار رائے کا اختیار دیتا ہے۔ پاکستان میں ایک بار ہی الیکشن میں ووٹ دیا ہے اور اس پر شرمندہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاست میں عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہوں۔ ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ کس سیاسی جماعت کا حصہ بنوں گی۔
ریحام خان نے کہا کہ ووٹ لیڈر کو نہیں بلکہ حلقے میں کام کرنے والے کو دیکھ کر دینا چاہیے۔ میں ایک ہی بار پاکستان میں ووٹ دیا ہے اور مجھے افسوس ہے کہ میں اچھے امیدوار کو نظر انداز کرکے کسی کو ووٹ دیا۔ مستقبل میں موقع ملا تو اپنی غلطی کی اصلاح کروں گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سیاسی رہنماوں پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ ہمارے ملک کا قانون ہر شہری کو سیاست کرنے اور اظہار رائے کا حق دیتے ہے جس کا ہمیں احترام کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ووٹ کو دینا ہے اس بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ لیکن اتنا ضرور طے کرلیا ہے کہ اب ووٹ اس کو دوں گی جو حلقے میں رہ کر عوام کی خدمت کرنے کا عزم رکھتا ہو۔ میرے سسرالیوں کے ایم کیو ایم سے اچھے روابط ہیں جلد ہی ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادر آباد کا بھی دورہ کرونگی۔
ریحام خان کا کہنا تھا کہ جلد ہی گورنر سندھ سے ملاقات کرکے آرٹ، کلچر اور فلم انڈسڑی سمیت دیگر شعبوں کی بہتری کے لیے کام کرنے کا ارادہ ہے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے یہاں سے آواز پوری دنیا تک جاتی ہے۔ ایک وقت میں ہمارے پاس 1500 سنیما تھے اب 500 رہ گئے ہیں۔ اس بارے میں ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا، آرٹ اور فلم کے ذریعے دنیا بھر میں مسائل اجاگر کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہجرت کرنے والوں نے جس طرح اس شہر کو سنبھالا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ میرے لیے کراچی پاکستان کا لندن ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کراچی میں انے والے جہاں سے بھی آتے ہیں یہ شہر اس کو گھر دیتا ہے۔ جنھوں نے اس شہر سیاست کی اس سے کچھ حاصل نہیں ہوسکا، دردناک داستانیں دلوں میں ہیں مگر چھپائے ہوئے ہیں۔ میں آج آپ کے لیے آئی ہوں۔
انہوں بے شہر کی ناگفتہ بہ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہاں بندے کم دیکھائی دیتے ہیں موٹر سائیکل زیادہ ہیں، یہاں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی نظام ہی نہیں تھا۔
ریحام خان نے کہا کہ مہذب دُنیا میں اگر بلی کے پاؤں پر گاڑی چڑھ جائے تو لوگ رُک جاتے ہیں اور یہاں انسانی جان کی کوئی قدر ہی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ سٹریٹ کرائم سے لوگ پریشان ہیں میرے سسر نے کہا موبائل فون گھر رکھ کر جائیں۔ میں یہاں رہنے آئی ہوں یہاں کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔
ریحام خان نے کہا کہ آج میں آپ لوگوں سے مشورہ کرنے آئی ہوں۔ اسمبلی میں آپ جیسا بندہ ہی جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ان کی کتاب میں جو لکھا گیا اور جو کہا وہ سب کو پتا تھا، بس میں نے سوچا کہ جو ہونا ہے دیکھی جائے گی آپ خاموش رہے میں نے بولا۔
اُن کا کہنا تھا کہ جو شخص میرے خلاف پرچہ کٹوا رہا تھا آج اُس کا حال دیکھ لیں، مجھے خوشی نہیں افسوس ہوا ہے کیونکہ ملک کا اس میں نقصان ہوا ہے۔

