پاکستان

ایک گھنٹے میں 29 قوانین کے مسودے منظور، قومی اسمبلی کا ریکارڈ

جولائی 29, 2023

ایک گھنٹے میں 29 قوانین کے مسودے منظور، قومی اسمبلی کا ریکارڈ

پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ہی دن میں 29 بل ایسے وقت منظور کیے جب عوامی نمائندوں کے ایوان میں حکمران اتحاد سے تعلق رکھنے والے صرف 15 قانون ساز موجود تھے اور کورم پورا نہیں تھا۔

سپیکر راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ایجنڈے میں 36 بلوں کے ساتھ شروع ہوا۔ صرف ایک گھنٹہ میں ایوان نے ان میں سے 29 کو منظور کر لیا اور قانون سازوں نے انہیں پڑھنے کی زحمت بھی نہیں کی۔

29 بلوں میں سے 24 بل نئی یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے قیام سے متعلق تھے۔

نئی یونیورسٹیوں کے قیام کے لیے جو بل پیش کیے گئے تھے ان میں سے اٹھارہ کو قومی اسمبلی کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے حوالے کیے بغیر بھی منظوری دے دی گئی۔

پی ٹی آئی کے منحرف رکن نور عالم خان نے ایوان میں کورم کے بغیر اتنے بل پاس کرنے پر اعتراض اٹھایا۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسمبلی میں کوئی ممبر یا وزیر نہیں تھے۔

نور عالم نے مزید کہا کہ یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کے قیام سے متعلق اتنے قوانین پاس کرنے سے پہلے ملک میں تعلیم کی حالت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

اجلاس کے دوران سیکرٹری پارلیمانی امور نے ملک میں گیس کی بندش پر توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ گیس کی فراہمی کا تعلق اس کی دستیابی سے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس کی شدید قلت ہے اور حکومت کو اسے کمرشل سیکٹر کو بھی فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم گھریلو صارفین کو گیس فراہم کرنے کی صورتحال میں نہیں ہیں۔”

وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے نشاندہی کی کہ برطرف ملازمین کو تاحال بحال نہیں کیا گیا۔

انہوں نے وزارتوں کے سیکرٹریز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنہوں نے پارلیمنٹ کے حکم کے باوجود ملازمین کو بحال نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیکرٹریز پارلیمنٹ کی ہدایات پر عمل نہ کر کے اس کی توہین کر رہے ہیں۔

سپیکر نے وقفہ سوالات کے دوران جوابات نہ ملنے کا بھی سخت نوٹس لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سوال ملتوی کرنے کی کوئی ٹھوس وجہ ہونی چاہیے۔

وزراء کی جانب سے یقین دہانی کے بعد انہوں نے وقفہ سوالات کو پیر تک ملتوی کردیا اور اس دن بھی اجلاس شام 5 بجے تک ملتوی کردیا۔

سپیکر نے یہ فیصلہ پیپلز پارٹی کی ایم این اے ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو کی جانب سے یہ جاننے کے مطالبے کے بعد دیا کہ ملک کے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کی 67 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے 40 فیصد بے روزگار ہیں۔

ایم این اے کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی پچھلی حکومت نے نوجوانوں کو جو خواب دکھائے تھے وہ کس حد تک پورے ہوئے اس پر کارروائی ہونا چاہیے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے