پاکستان

اتوار کو قانون سازی، حکومتی اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی

جولائی 30, 2023

اتوار کو قانون سازی، حکومتی اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی

پاکستان میں اتحادی حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان غیرمعمولی جلدبازی سے قانون سازی کی کوشش کے دوران پھوٹ پڑ گئی ہے۔

اتوار کو پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ میں وزیر مملکت شہادت اعوان نے ’پرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام‘ کا بِل پیش کیا جس پر اپوزیشن کے ساتھ حکومتی اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سینیٹرز نے بھی اعتراض کیا۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ بِل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بِل کے ذریعے ہاتھ کاٹے جا رہے ہیں۔ ایسی قانون سازی نہ کی جائے جس سے آئین کی خلاف ورزی ہو۔

سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے چیئرمین سینیٹ سے سوال کیا کہ کیا اتوار کو ہی اس بِل کو پاس کرنا تھا؟ جس پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ایسا نہیں کرنا تھا۔

عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جے یو آئی بِل کی مخالفت کرے گی۔

ن لیگ کے سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی بِل کی مخالفت کی۔

بل کی مخالفت میں شدت دیکھتے ہوئے چیئرمین صادق سنجرانی نے کہا کہ حکومت کرے نہ کرے ، میں اس بل کو ڈراپ کرتا ہوں.

چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پرتشدد انتہاپسندی کا بل ڈراپ کر دیا۔

قبل ازیں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق نے ٹویٹ کیا تھا کہ آج انسداد پرتشدد انتہاپسندی کا بِل سینیٹ میں پی ڈی ایم حکومت پیش کر رہی ہے۔ حکومت کے تیور بتا رہے ہیں کہ اس کو کمیٹی بھیجنے، اس پر بحث کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور اسی وقت اس کو پاس کر لیں گے۔ یہ ایک بہت ہی خوفناک بل ہے جس سے پرتشد انتہاء پسندی ختم نہیں ہو گی بلکہ بڑھے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ بل کے سیکشن 5 اور سیکشن 6 ڈریکونین (خوفناک) ہیں۔ یہ پاکستان تحریک انصاف ‬⁩ پر پابندی کا بل ہے۔ ⁦حکومت‬⁩ کی کسی سیاسی لیڈر یا سیاسی جماعت کو ریاستی جبر کے ذریعے سے مائنس کرنے، Eliminate کرنے کی کوشش غلط ہے۔

سینیٹر مشتاق کے مطابق اس سے آئندہ الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں/ لیڈرشپ کو مقابلے کایکساں میدان ملنا اور صاف شفاف انعقاد بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔ حکومت اس بل کو ہر صورت میں کمیٹی بھیجے اور قواعد و ضوابط کو پامال نہ کرے۔ پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹمپ، انگوٹھا چھاپ اور redundant نہ بنائیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے