مردم شماری متفقہ منظور، گزشتہ 6 سال میں آبادی ساڑھے تین کروڑ بڑھی
مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے ساتویں مردم شماری کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ہے۔
جاری کیے گئے بیان کے مطابق سنیچر کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت سی سی آئی کے پچاسویں اجلاس میں نتائج کی متفقہ منظوری دی گئی۔
چاروں وزرائے اعلیٰ، تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے مردم شماری کے نتائج سے مکمل اتفاق کیا جبکہ باپ پارٹی کے ڈاکٹر خالد مگسی، ایم کیوایم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے قمر زمان کائرہ نے بھی سی سی آئی کے دیگر ارکان کے علاوہ خصوصی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل وفاق کی مضبوطی کے لیے ایک اہم آئینی ادارہ ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل مردم شماری بہترین طور سے مکمل ہوئی جو خوش آئند ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور پاکستان ادارہ شماریات نے اس قومی فریضے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال،وزارت کے افسران اور بالخصوص ادارہ شماریات اور گھر گھر جا کر اندراج کرنے والے اہلکار اس ڈیجیٹل مردم شماری کی کامیابی سے تکمیل کے لیے لائقِ تحسین ہیں۔
اجلاس کو وزارتِ منصوبہ بندی اور پاکستان ادارہ شماریات کے حکام نے مردم شماری کے نتائج پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ساتویں مردم شماری کے مطابق پاکستان کی موجودہ مجموعی آبادی241.49 ملین یعنی 24 کروڑ 14 لاکھ سے زیادہ ہے۔
ملکی آبادی کی سالانہ شرح نمو 2.55 فیصد رہی۔ بلوچستان کی آبادی کی شرح نمو باقی صوبوں سے زیادہ یعنی 3.2 فیصد رہی۔
وزیراعظم نے کہا کہ گذشتہ 6 سال میں آبادی میں 3.5 کروڑ کا اضافہ ہوا جو باعث فکر ہے۔ پاکستان کی آبادی کے اضافے کا تناسب پاکستان کی معاشی ترقی سے کہیں زیادہ ہے۔
وزیراعظم کے مطابق آبادی میں اضافہ متعدد قسم کی مشکلات پیدا کرتا ہے۔یہ پاکستان میں آئندہ منتخب شدہ حکومت اورمستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں نہ صرف آبادی میں اضافے کو روکنا ہوگا بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو بڑھا کر ان چیلنجز پر قابو پانا ہوگا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 2022 میں مردم شماری کے لیے سنسس ایڈوائزری کمیٹی جو کہ معروف و مایہ ناز شماریات کے ماہرین پر مشتمل ہے اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ا±س کے صدر ہیں نے سنسس مانیٹرنگ کمیٹی کے قیام اور سنسس ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار سنسس مانیٹرنگ کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز بشمول صوبائی نمائندگان کی شرکت کو یقینی بنایا گیا۔
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے لیے نادرا نے نہ صرف سوفٹ ویئر بلکہ 1 لاکھ 26 ہزار ٹیبلٹس، نیشنل ٹیلی کام کارپوریشن (NTC) نے ڈیٹا انفراسٹرکچر، اسٹوریج اینڈ کمپیوٹنگ کی سہولیات جبکہ سپارکو نے بلاکس کی تازہ ترین سیٹلائیٹ کی ڈیجیٹل تصاویر مہیا کیں۔اس کے علاوہ صوبائی حکومتوں نے 1 لاکھ 21 ہزار اہلکار، مسلح افواج اور قانو ن نافذ کرنے والے اداروں نے اعدادو شمار اکھٹا کرنے والے اہلکاروں کو سکیورٹی فراہم کی۔
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سنسس ایڈوائزری کمیٹی کی سفارش پر مشترکہ مفادات کونسل نے ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری کے عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو پہلے دن سے شامل کیا گیا۔ لہٰذا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مردم شماری کے دوران صوبائی انتظامیہ، سول سوسائٹی اور تعلیمی ماہرین کو بھی اس کا حصہ بنایا گیا۔ مزید یہ کہ مردم شماری کی تمام سرگرمیوں میں صوبائی چیف سیکریٹریز اور ضلعی انتظامیہ کو شفافیت کے لیے ڈیش بورڈ ز کے ذریعے پل پل نگرانی کی سہولت فراہم کی گئی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ڈیجیٹل مردم شماری 2023 یکم مارچ 2023سے22 مئی 2023 تک جاری رہی جبکہ ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد کا سروے 8 سے 19جولائی 2023 تک جاری رہا۔
اجلاس کو بتایا گیا 2023 میں مجموعی طور پر پاکستان کی آبادی 241.49 ملین نفوس ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخواہ کی آبادی40.85 ملین، پنجاب کی آبادی 127.68 ملین، سندھ کی آبادی 55.69 ملین، بلوچستان کی آبادی 14.89 ملین اور اسلام آباد کی آبادی 2.36 ملین ریکارڈ کی گئی۔
اس لحاظ سے پاکستان کی آبادی میں اضافے کی موجودہ سالانہ شرح نمو 2.55 فیصد ہے جبکہ خیبر پختونخواہ میں 2.38 فیصد، پنجاب2.53 فیصد، سندھ2.57 فیصد اور بلوچستان 3.20 فیصد رہی۔
اجلاس نے متفقہ طور پر ساتویں ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج منظور کیے۔ اجلاس میں باپ پارٹی کے ڈاکٹر خالد مگسی، ایم کیوایم اور پاکستان پیپلزپارٹی کے راہنما قمر زمان کائرہ نے بھی سی سی آئی کے دیگر ارکان کے علاوہ شرکت کی۔ اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق کے بعد مردم شماری کے نتائج کی منظوری دی گئی۔
وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاءکا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ آبادی میں اضافے کی موجودہ رفتار انتہائی پریشان کن ہے۔ ہمارے تمام قومی اداروں اور صوبائی حکومتوں کو آبادی میں اضافے کو روکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملک کے محدود وسائل بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ناکافی ہیں۔ اگر آبادی کی شرح نمو موجودہ رفتار سے جاری رہی تو ہماری تمام تر کاوشوں کے باجود پاکستان میں غربت اوربیروزگاری میں اضافہ ہوگا۔ لہٰذا اپنے محفوظ مستقبل کے لیے ہمیں آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور موجودہ آبادی کی ترقی و خوشحالی کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔

