عمران خان کی سزا قانون کے مطابق، اپیل کر سکتے ہیں: وزیر قانون
پاکستان کے وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے پاس ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق ہے۔
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کو اعلیٰ عدلیہ نے گھر بھیج دیا تھا اور انہیں نہ اپیل کا موقع ملا اور نہ نظرثانی کا۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اس کیس میں ٹرائل ہوا اور عمران خان کو موقع دیا گیا لیکن 37 مرتبہ وہ غیرحاضر رہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کو ایک قانونی طریقہ کار کے تحت سزا ہوئی جس کا ان کو سامنا کرنا چاہیے۔
اجلاس کے دوران عمران خان کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے واک آؤٹ کیا۔
وزیر قانون نے کہا کہ ’اگر ہمارے (پی ٹی آئی کے) دوست عدالتی فیصلے کو بنیاد بنا کر بائیکاٹ کریں گے تو یہ بڑی غیر مناسب بات ہے۔
’چیئرمین تحریک انصاف کو ایک بڑے سادہ سے کیس میں سزا ہوئی ہے۔ آئین کا آرٹیکل 62 اور 63 یہ کہتا ہے کہ مجلس شوریٰ کا رکن بننے اور رکنیت برقرار رکھنے کی یہ شرائط ہیں اور اس کے لیے پارلیمنٹ قانون بنائے گی۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پارلیمنٹ نے شفافیت کے لیے قانون بنایا جس کے تحت ایوان بالا اور ایوان زیریں کے ہر رکن کو 31 دسمبر کو گوشوارے داخل کرانا ہوتے ہیں کہ میں نے یہ جائیدادیں بیچی ہیں یا خریدی ہیں اور یہ میرے اثاثے ہیں۔ 30 جون سے قبل آپ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔‘

