بلوچستان میں گاڑی کو بم سے اُڑا دیا گیا، سات ہلاک
بلوچستان میں پنجگور اور کیچ کے سرحدی علاقے میں ایک گاڑی کو بم دھماکے سے اُڑا دیا گیا ہے۔
دھماکے میں مقامی یونین کونسل کے چیئرمین سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے۔
حکام کے مطابق یہ افراد گاڑی میں سوار تھے، جنہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پیر کی شام ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔
وزیرداخلہ بلوچستان ضیا اللہ لانگو نے دھماکے میں سات ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مرنے والوں میں یونین کونسل بالگتر کے چیئرمین اسحاق بالگتری اور ان کے چھ ساتھی شامل ہیں۔
ایک مقامی لیویز عہدے دار کے مطابق دھماکہ پنجگور سے تقریباً 140 کلومیٹر دور ضلع کیچ سے ملحقہ پنجگور کے علاقے بالگتر میں پیش آیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’مقتولین ایک سرف گاڑی میں سوار تھے اور شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے جا رہے تھے، راستے میں بالگتر کے علاقے ردے توک کے مقام پر سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بم کے ذریعے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔‘
پنجگور اور کیچ کی سرحدیں ایران سے بھی لگتی ہیں۔ اس علاقے میں اس سے پہلے بھی سکیورٹی فورسز اور حکومتی حمایت یافتہ گروہوں پر درجنوں جان لیوا حملے ہو چکے ہیں۔
ہلاک ہونے والے باقی چھ افراد کی شناخت ابراہیم ولد بدل، نظام عرف بدل ولد وجداد، فدا حسین ولد مومن، سرفراز ولد بندو، سفر خان ولد حیدر اور محمد قاسم کے نام سے ہوئی ہے۔
ان میں محمد قاسم پنجگور کے علاقے پروم جبکہ باقی سب بالگتر کے رہائشی تھے۔

