پاکستان

رضوانہ تشدد کیس، میرا جتنا میڈیا ٹرائل ہوا، خود کشی کرلینی چاہیے: سومیہ عاصم

اگست 8, 2023

رضوانہ تشدد کیس، میرا جتنا میڈیا ٹرائل ہوا، خود کشی کرلینی چاہیے: سومیہ عاصم

کمسن ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں خاتون جج نے ملزمہ سومیہ عاصم کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

منگل کو جوڈیشل مجسٹریٹ شائستہ کنڈی نے فیصلہ سناتے ہوئے پراسیکیوشن کی ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی۔

جج شائستہ کُنڈی نے کہا کہ قانون خاتون ملزم کو صرف 2 مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کی اجازت دیتا ہے، صرف اقدام قتل اور قتل کے مقدمات میں قانون خاتون ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی اجازت دیتا ہے۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے بچی کو دی جانے والی اجرت کے حوالے سے رسیدیں حاصل کرنی ہیں۔

ملزمہ کے وکیل نے کہا کہ ہمارے خلاف الزام ہے کہ بچی ہمارے پاس ملازمہ تھی،
بچی ہمارے پاس ملازمہ تھی ہی نہیں، یہ الزام ہے۔

وکیل صفائی کے مطابق

جج شائستہ کنڈی آپ نے اگر وڈیو ہی لینی ہے تو سیف سٹی سے وڈیو لے لیں، میڈیا ہائپ کی بنیاد پر تو جسمانی ریمانڈ نہیں دے سکتی۔

ملزمہ سومیہ عاصم نے عدالتی روسٹرم پر جا کر کہا کہ ہر طرح کا تعاون کرنے کو تیار ہوں۔

ملزمہ نے کہا کہ میں ایک ماں ہوں، میرے تین بچے ہیں، اس طرح کا ٹارچر نہ کیا جائے۔

ملزمہ سومیہ عاصم نے پولیس پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے رات ساڑھے گیارہ بجے مجھے بلا کر مینٹل ٹارچر کیا ہے،
تفتیشی افسر بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے

تفتیشی افسر نے وضاحت کی کہ ایسی کوئی بات نہیں۔

جج نے پوچھا کہ اس کیس میں ملزمہ پر کون سی دفعات لگیں گی؟

ملزمہ کے وکیل نے بتایا کہ اس کیس میں دفعہ 324 لگی ہے۔

جج نے پوچھا کہ اس وقت بچی کی حالت کیسی ہے؟ وکیل نے جواب دیا کہ بچی کی حالت پہلے سے بہتر ہے۔

جج کے مطابق صرف دو نوعیت کے کیسز میں جسمانی ریمانڈ ہوتا ہے،
324 تو قتل کرنے کی کوشش ہے، پراسکیوشن عدالت کی معاونت کرے کہ اس صورت میں جسمانی ریمانڈ مل سکتا ہے یا نہیں؟

پراسیکیوشن کے وکیل نے کہا کہ ویڈیوز کا جائزہ لینا ہے اور جو تںخواہ دی اس کی رسیدیں پولیس نے برآمد کرنی ہیں۔

جج نے کہا کہ آپ رسیدیں تفتیش کے مرحلے پر ہی دیں گے۔

ملزمہ سومیہ عاصم کمرہ عدالت میں رو پڑیں اور بتایا کہ میں ہر طرح کا تعاون کررہی ہوں، مجھے جے آئی ٹی میں رات ساڑھے گیارہ بجے تک بیٹھایا، میں تین بچوں کی ماں ہوں۔ رات کو بارہ بجے تک ان کے پاس رہی۔

ملزمہ نے بتایا کہ میں دو بار شامل تفتیش ہوئی، مجھے ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

جج نے پوچھا کہ کیا پولیس کا ایسا رویہ تھا؟ پولیس اہلکار نے بتایا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔

جج نے پوچھا کہبکیا آپ وویمن تھانے میں تھیں؟ ملزمہ نے بتایا کہ مجھے کل ایک گھر میں لے کر گئے وہاں سے چیزیں اکٹھی کی ہیں۔

جج نے کہا کہ دیکھا جائے تو تفتیش مکمل ہوچکی ہے۔

پراسکیوٹر نے بتایا کہ زیادہ تر شواہد اکٹھے ہوگئے ہیں۔
جج نے کہا کہ اس بیان کے بعد اب تو ریمانڈ کی ضرورت نہیں رہی.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے