اٹک جیل کے باہر جھگڑا، عمران خان کے دو وکلا پر مقدمہ درج
ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے عملے سے ہاتھا پائی اور سرکاری اہلکار کی وردی پھاڑنے کے الزام میں عمران خان کے دو وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
تھانہ سٹی اٹک میں درج مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت، سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے اور جیل اہلکار کی یونیفارم پھاڑنے کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
تھانہ سٹی اٹک میں مقدمہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل افضال وڑائچ کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
مقدمے کے متن مطابق آٹھ اگست منگل کی رات 8 بج کر 40 منٹ پر عمیر خان نیازی ایڈووکیٹ اسلام اباد ہائی کورٹ کے احکامات جیل انتظامیہ کو وصول کرانے کے لیے سول ججز رہائش گاہ کے ناکے پر پہنچے۔
اطلاع پر ہیڈ وارڈر ابرار خان، وارڈر عثمان احمد خان عدالت عالیہ کے احکامات وصول کرنے ناکہ پر گئے جہاں ایڈووکیٹ شیر افضل مروت بھی پہنچ گئے۔
وکلاء سے عدالت عالیہ کے احکامات فراہم کرنے کے لیے کہا گیا۔
دونوں نے عمران احمد خان نیازی سے ملاقات اور وکالت ناموں پر دستخط کرانے پر اصرار کیا جنھیں جیل لاک اپ اور قواعد کے بارے میں آگاہ کیا گیا کہ شام کے بعد قیدیوں سے ملاقات نہیں کی جا سکتی۔
ایف آئی آر کے مطابق اس پر دونوں نے مشتعل ہو کر بدتمیزی کی اور وارڈر عثمان پر حملہ آور ہو گئے۔
ہیڈ وارڈر ابرار احمد خان نے عثمان کو بچایا۔ اس دوران ملزمان نے ہیڈ وارڈر ابرار احمد خان کی سرکاری یونیفارم پھاڑ دی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔
اس سارے واقعے کے ناکے پر موجود پولیس ملازمین بھی عینی شاہد ہیں۔

