پاکستان

امریکی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے سائفر/ سفارتی کیبل کا اردو ترجمہ

اگست 10, 2023

امریکی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے سائفر/ سفارتی کیبل کا اردو ترجمہ

انٹرسپٹ نامی بین الااقوامی ویب سائٹ پرامریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر اسد مجید کا لکھا خفیہ سفارتی مراسلہ شائع کردیا گیا ہے ۔

جس میں سفیر نے جنوبی اور وسطی ایشیا ڈیسک پر مامور امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو کی وہ گفتگو شامل ہے جس کو بنیا د بنا کر سابق وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت گرائے جانے کے پیچھے امریکی سازش ہونے کا بیانیہ بنایا ۔

درج ذیل معلومات 7اپریل 2022کو امریکی اہلکار کےساتھ ہونے والی ملاقات سے متعلق پاکستانی سفیر اسد مجید کے تحریر کردہ اُس خفیہ سفارتی مراسلے کا اردو ترجمہ ہے جو انٹرسپٹ نے شائع کیا ہے ۔

نوٹ : ملاقات میں پاکستان کی طرف سے ڈپٹی چیف آف مشن ،دفاعی اتاشی اور قونصلر قاسم بھی شریک تھے ۔

مراسلے کا متن:

میری جنوبی اور وسطی ایشیا ڈیسک پر مامور امریکی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ ڈونلڈ لو سے دوپہر کے کھانے پر ملاقات ہوئی ،اُن کے ساتھ ڈپٹی اسسٹنٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ لیس ویگری موجود تھے ۔

میرے ہمراہ ڈی سی ایم ،ڈی اے اور کونصلر قاسم تھے ۔گفتگو کے آغاز میں ہی ڈونلڈ لو نے یوکرائن کے بحران کے حوالے سے پاکستان کے موقف کا حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان کی طرف سے اپنی غیر جانبداری کا جارحانہ اظہار امریکہ اور یورپ کی حکومتوں کیلئے باعث تشویش ہے اور ہمارے نزدیک پاکستان کا موقف اتنا غیر جانبدرانہ بھی نہیں ،امریکہ اہلکار کا کہنا تھا کہ اُس کی جو بات چیت قومی سلامتی کمیٹی کے اراکین سے ہوئی ہے اُس سے یہ واضح تاثر ملتا ہے کہ یوکرائن سے متعلق پالیسی کی وجہ خود عمران خان ہیں اور اس کی ایک وجہ اسلام آباد میں جاری سیاسی ڈرامہ بازی بھی ہے جو عمران خان کی ضرورت ہے اور اس کے زریعے وہ عوام کے سامنے خود کو دوبارہ سرخرو کرنا چاہتے ہیں ۔
میں نے جواب دیا آپ کا پاکستان کی یوکرائن سے متعلق موقف کے بارے میں یہ تاثر درست نہیں کیونکہ یہ موقف تمام اداروں کے بیچ تفصیلی مشاورت کے بعد اپنایا گیا ہے ،پاکستان نے کبھی بھی اپنی سفارتی کاری کو عوامی سیاست کا حصہ نہیں بنایا،وزیراعظم عمران خان کی ایک عوامی اجتماع میں تقریر یورپی سفیروں کے اُس خط کا ردعمل تھا جو انھوں نے سفارتی اصولوں اور آداب کے برخلاف عوامی سطح پر جاری کیا ۔
میں نے امریکی اہلکار سے پوچھا کہ امریکہ کا یہ سخت رویہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں (یوکرائن کے معاملے پر ) کسی کے حق یا مخالفت میں ووٹ نہ دینے کے فیصلے کی وجہ تو نہیں بنا ؟

امریکی اہلکار نے سختی سے اس کی تردید کی اور کہا اس کی وجہ وزیر اعظم عمران خان کا دورہ ماسکو تھا ۔امریکی اہلکار کا کہنا تھا کہ اُن کی رائے میں اگر وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوجاتی ہے تو امریکہ سب کچھ بھول جائے گا کیونکہ اُن کے نزدیک روس کا دورہ وزیراعظم عمران خان کا اپنا فیصلہ تھا ،دوسری صورت میں (امریکہ اور پاکستان کا) مل کر چلنا مشکل ہو جائے گا ۔

امریکی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ اس حوالے سے (عدم اعتماد کی تحریک ) وہ نہیں کہہ سکتے کہ یورپی ممالک میں کیا سوچ پائی جاتی ہے مگر انھیں لگتا ہے کہ یورپی ممالک بھی انہی سطور پر سوچ رہے ہیں۔

امریکی اہلکار ڈونلڈ لو نے مزید کہا کہ بظاہر بیچنگ اولمپکس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے دورہ ماسکو ترتیب دیا اور اسی دوران وزیراعظم عمران خان نے روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کی ناکام کوشش بھی کی جس کے بعد ماسکو جانے کے خیال کو عملی جامہ پہنایا گیا ،میں نے ڈونلڈ لو کو بتایا کہ اُس کو غلط معلومات دی گئی ہیں اور اُس کا تاثر درست نہیں ،دورہ ماسکو پچھلے کئی سال سے زیر غور تھا اور یہ اداروں کے بیچ مشاورت کے بعد طے پایا ،میں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ وزیراعظم عمران خان کے ماسکو کے سفر کے دوران یوکرائن پر حملہ شروع نہیں ہوا تھا اور اس بحران کے پر امن حل کی امید باقی تھی ،میں نے یہ بھی کہا کہ یہ وہی وقت تھا کہ جب یورپین ممالک کے حکام بھی ماسکو جارہے تھے ۔ڈونلڈ لو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یورپین ممالک کے حکام کے دورے خاص طور پر یوکرائن کی جنگ کو روکنے کیلئے تھے جبکہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورے کی وجہ باہمی معاشی تعلقات تھے ۔

اس پر میں نے امریکی اہلکار سے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ماسکو میں موجودگی کے دوران واضح طور پر یوکرائن کے بحران پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور کامیاب سفارت کاری کی امید ظاہر کی ۔میں نے زور دے کر کہا وزیراعظم عمران خان کا دورہ خالصتاََ باہمی تعلقات کے تناظر میں تھا اور اس کو یوکرائن کے خلاف روسی کارروائی کی تائید یا حمایت نہ سمجھا جائے ،میں نے کہا کہ یوکرائن پر ہمارے موقف کی وجہ تمام فریقین کیساتھ اپنے رابطوں کو برقرار رکھنے کی خواہش ہے اور اس بات کا اعادہ پاکستان نے اپنے اقوام متحدہ میں موجود نمائندے کے زریعے واضح طور پر کیا جہاں اقوام متحدہ کے اصولوں کی پابندی کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ طاقت کے استعمال یا اُس کی دھمکی کے خلاف اور ریاستوں کی سالمیت اور جغرافیائی حدود کا احترام ،تنازعات کے پر امن حل کا اعادہ بھی کیا گیا ۔میں نے ڈونلڈ لو سے کہا کہ پاکستان اس بات کے لیے پریشان ہے کہ یوکرائن کے بحران کی وجہ سے افغانستان میں (امریکی اور پاکستان ) کی امن کی کوششوں پر کیا اثر پڑ سکتا ہے ،ہم نے افغانستان جنگ کے باعث طویل عرصے تک ایک بھاری قیمت ادا کی ہے اور ہم دونوں کی یہ مشترکہ ترجیح ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام لایا جائے جس کے لیے روس سمیت تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ تعاون کرنا ہماری مجبوری ہے ۔اس تناظر میں بھی (روس کیساتھ ) رابطے کھلے رکھنا لازمی تھا یہ وجہ بھی یوکرائن سے متعلق ہمارے موقف کی بنیاد بنی ۔جب میں نے بیچنگ میں آنے والے تین قوتوں کے اجلاس کا حوالہ دیا تو ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ امریکہ میں ابھی بھی مشاورت جاری ہے کہ آیا اسے تین قوتوں کے اجلاس میں یا افغانستان سے متعلق انتالیہ میں ہونے والے اجلاس میں شریک ہونا ہے یا نہیں کہ کیونکہ اُس اجلاس میں روسی نمائندے بھی شریک ہو رہے ہیں فی الوقت امریکہ کی بھرپور توجہ روس کیساتھ صرف یوکرائن کے معاملے پر بات چیت کرنا ہے ۔
جس پر میں نے جواب دیا کہ اسی امکان نے تو ہمیں پریشان کر رکھا ہے ہم نہیں چاہتے تھے کہ یوکرائن بحران کے باعث(دنیا کی ) افغانستان سے توجہ ہٹ جائے اس پر ڈونلڈ لو نے خاموشی اختیار کی ۔میں نے ڈونلڈ لو سے کہا کہ اُس کی طرح میں بھی اپنا موقف ڈھکے چھپے الفاظ کے بغیر بیان کرونگا ۔میں نے کہا پچھلے ایک سال سے ہمیں تسلسل کے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ امریکی قیادت پاکستانی قیادت سے رابطہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے اس ہچکچاہٹ سے پاکستان میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ہمیں نظر انداز کیا جارہا ہے بلکہ بہت ہلکا لیا جارہاہے ،پاکستان میں یہ بھی تاثر ہے کہ ایک طرف امریکی اپنے لیے اہم تمام معاملات پر ہمارا تعاون چاہتے ہیں مگر اس کے بدلے خود پاکستان کو ایسا تعاون دینے کو تیار نہیں ،پاکستان کیلئے کشمیر جیسے اہم معاملات پر ہمیں امریکہ کی حمایت نظر نہیں آتی ،اسی لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایسے تاثر کو دور کرنے واسطے اعلیٰ ترین سطح پر رابطوں کو فعال رکھا جائے ،میں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں خیرانی ہے کہ پاکستان کا یوکرائن سے متعلق موقف امریکہ کیلئے اتنا ہی اہم تھا تو امریکی قیادت نے روس کے دورے سے پہلے اعلیٰ ترین سطح پر پاکستان سے رابطہ کیوں نہیں کیا اور خاص طور پر اس حوالے سے اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے پہلے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ( امریکی دفتر خارجہ نے ڈپٹی چیف آف مشن ) ڈی سی ایم کی سطح پر یہ رابطہ ضرور کیا گیا ۔پاکستان (امریکہ کیساتھ ) اعلیٰ ترین سطح پر رابطوں کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسی وجہ سے ہمارے وزیرخارجہ (شاہ محمود قریشی ) نے امریکی سیکرٹری خارجہ بلنکن کیساتھ زاتی گفتگو کیلئے وقت مانگا تھا تاکہ یوکرائن بحران سے متعلق پاکستان کا موقف بیان کیا جاسکے ابھی تک اُس کا جواب نہیں دیا گیا ۔
ڈونلڈ لو نے کہا کہ امریکہ کے نزدیک پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران کے پیش نظر ایسے رابطوں کیلئے یہ صحیح وقت نہ تھا اور اس سیاسی بحران کے ختم ہونے کا انتظار کرنا ضروری تھا ۔

میں نے اپنا موقف دہرایا کہ یوکرائن بحران جیسے پیچیدہ صورتحال ممالک کو کسی ایک فریق کیساتھ کھڑے ہونے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے اور اس بات پر زور دیا کہ سیاسی قیادت کی سطح پر فعال باہمی رابطے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔اس پر ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ آپ نے اپنا موقف واضح انداز میں بیان کر دیاہے جس کو وہ اپنی قیادت تک پہنچا دیں گے ۔

میں نے ڈونلڈ لو کی توجہ یوکرائن کے بحران سے متعلق بھارتی موقف کی طرف دلوائی جس کا ڈونلڈ لو نے امریکہ کی سینیٹ کی زیلی کمیٹی میں دفاع کیا تھا ۔میں نے کہا کہ بظاہر امریکہ نے بھارت اور پاکستان کیلئے مختلف معیار طے کر رکھے ہیں جس پر ڈونلڈ لو نے جواب دیا امریکی قانون ساز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی میں یوکرائن کے بحران سے متعلق کسی فریق کے حق میں ووٹ نہ دینے کے فیصلے پر سخت جذبات رکھتے ہیں جس پر میں نے کہا امریکی سینیٹ کمیٹی کے اجلاس سے یہ تاثر ملا تھا کہ امریکی پاکستان سے زیادہ انڈیا سے توقعات رکھتے ہیں اور پھر اس کے باوجود وہ پاکستان کے موقف پر زیادہ تشویش کا شکار ہیں ۔ڈونلڈ لو جان چھڑانے کے انداز میں جواب دیا کہ امریکہ بھارت سے اپنے تعلقا ت کو چین کی صورتحال کے تناظر میں دیکھتا ہے ،اُنکا کہنا تھا کہ بھارت کے روس سے قریبی تعلقات ہیں مگر جب ایک بار تمام بھارتی طالب علم یوکرائن سے نکال لیے جائیں گے تو پھر ہمیں بھارت کی (روس کے بارے میں ) پالیسی میں بڑی تبدیلی نظر آئے گی ۔

میں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ روس پاک امریکہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا ۔ڈونلڈ لو نے جواب دیا کہ یہ دورہ پہلے ہی ہمارے تعلقات میں دراڑ ڈال چکا ہے چلیں کچھ دن تک دیکھتے ہیں کہ اگر (پاکستان میں) سیاسی صورتحال تبدیل ہوتی ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ (یوکرائن کے بحران پر ) ہمارے بیچ کوئی بڑے اختلاقات نہیں ہونگے اور یہ دراڑ بھی بہت جلد ختم ہو جائے گی وگرنہ دوسری صورت میں ہمیں اس مسئلے سے بلا جھجک نمٹنا ہوگا اور اسکے حل کیلئے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہونگے ،ہم نے افغانستان کے علاوہ دیگر باہمی تعلقات کے امور پر بھی بات کی جس کے حوالے سے ایک الگ مراسلے میں ہماری گفتگو کی تفصیلات درج ہیں ۔

تجزیہ ،سفارشات
ڈونلڈ لو وائٹ ہاﺅس کی باقاعدہ منظوری کے بغیر ایسی سخت باتیں نہیں کر سکتا تھا جس کی طرف اُس نے بار بار اپنی گفتگو میں بھی اشارہ کیا ۔

یہ واضح ہے کہ ڈونلڈ لو نے پاکستان کے اندورونی سیاسی عمل پر رائے دیکر اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے ہمیں اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اسلام آباد میں امریکی ناظم الاامور کو طلب کر کے مناسب احتجاجی مراسلہ بھی تھمانے پر غور کرنا چاہیے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے