چترال یونیورسٹی میں مستقل اساتذہ کی تعیناتیوں میں ’سنگین بے قاعدگیاں‘, وائس چانسلر کی تردید
یونیورسٹی آف چترال میں حال ہی میں ہونے والے تدریسی عملے کے مستقل تعیناتیوں اور تقرریوں میں مبینہ طور پر سنگین بے قاعدگیاں سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حال ہی میں تعینات اور مستقل ہونے والے اساتذہ کی تقرریوں میں بے قاعدگیاں اور یونیورسٹی کے قوانین کی خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
تاہم یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظاہر شاہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ تقرری کے عمل کے دوران سیلیکٹ نہیں ہوسکے وہ سوشل میڈیا پر یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چترال یونیورسٹی نے فروری 2022 میں ایک کنٹریکٹ ٹیچر کو پہلے ڈپٹی رجسٹرار پھر ایڈیشنل رجسٹرار کا اضافی چارج دیا۔ چونکہ یونیورسٹی میں مستقل رجسٹرار موجود نہیں تو مذکورہ ٹیچر رجسٹرار کے عہدے پر اب بھی کام کر رہے ہیں۔
متعلقہ قانون کے مطابق کنٹریکٹ ٹیچریونورسٹی کا ملازم تصور نہیں ہوتا۔ یونیورسٹی رولز کے تحت کنٹریکٹ ملازم کو کوئی بھی انتظامی عہدہ بطور اضافی ذمہ داری دیا ہی نہیں جاسکتا۔
یونورسٹی ایکٹ 2012 کے مطابق کسی یونیورسٹی کا رجسٹرار یونیورسٹی سنڈیکٹ، سینٹ، ایکڈیمک کونسل کے علاوہ یونیورسٹی سیلکشن بورڈ کا ایکس افیشیو سیکریٹری ہوتا ہے۔
تاہم پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ کا کہنا ہے کہ چونکہ یونیورسٹی میں کوئی بھی مستقل اسسٹنٹ پروفیسر موجود ہی نہیں تھا اس لیے کنٹریکٹ اسسٹنٹ پروفیسر کو ایڈیشنل رجسٹرار کا چارج دینا پڑا، چونکہ مستقل رجسٹرار موجود ہی نہیں تو وہ قائم مقام رجسٹرار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق جب انہوں نے وی سی کے طور پر چارج لیا تو یونیورسٹی میں صرف چھ لکچیرار مستقل طور پر کام کر رہے تھے۔
رجسٹرار پر الزام ہے کہ اس نے مبینہ طور پر واٸس چانسلر کی معاونت سے اپنے سمیت واٸس چانسلر کے دوسرے من پسند امیدواروں کی مستقل تعیناتیوں کے لیے یونیورسٹی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوٸے مستقل تعیناتیوں کا اشتہار دیا۔
ذرائع کے مطابق قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تدریسی آسامیوں پر مستقل تعیناتیوں کے لیے اندرونی طور پر ٹیسٹ رکھے گئے- متعلقہ قوانین کے مطابق یونیورسٹی میں تقرریوں کے لیے اندرونی طور پر ٹیسٹ رکھنے کی کوٸی گنجاٸش نہیں ہے، اور ٹیسٹس کسی بیرونی ٹسٹینگ ایجنسی سے ہی رکھوائے جا سکتے ہیں۔
تاہم پروفیسر ظاہر شاہ کہتے ہیں کہ چونکہ یونیورسٹی کے اپنے سٹیٹیوز نہیں بنے ہیں اس لیے خیبرپختونخوا یونیورسٹز ماڈل سٹیٹیوٹز (statutes)کے مطابق چلایا جارہا ہے۔
جب ان کی توجہ ایچ ای سی کے قوانین کی طرف دلائی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ایچ ای سی ریگولیٹری باڈی ہے وہ گائیڈلائن جاری کرتا ہے۔ مگر خیبرپختونخوا یونیورسٹریز ماڈل سٹیٹیوٹز کے تحت چلائی جارہی ہے۔
تاہم ایک اور سوال کے جواب میں تسلیم کیا کہ خیبرپختونخوا یونیورسٹریز ماڈل سٹیٹیوٹز کو بھی مکمل طور پر فالو کرنا ممکن نہیں کیونکہ یونیورسٹی میں تقریباً تمام انتظامی عہدے خالی ہے۔ رجسٹرار نہیں، پرو وائس چانسلرز نہیں اور بھی انتظامی عہدے خالی ہے۔
الزام ہے کہ اندرونی طور پر ٹیسٹ موجودہ وی سی اور رجسٹرار نے اپنے منظورنظر لوگوں کی مستقل تعیناتیوں کے لیے رکھے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ بنانے اور چیکنگ میں شفافیت نہیں تھی بلکہ امیدواروں کو مرضی کے نمبرز بھی دیے گئے۔
تاہم وی سی ظاہر شاہ ان الزامات کی تردید کر تے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اندروانی طور پر ٹیسٹ کی اجازت سینیٹ اور سنڈیکیٹ سے لی گئی تھی۔ چونکہ خیبرپختونخوا یونیورسٹز ماڈل سٹیٹیوٹز پر مکمل عمل درآمد ممکن نہیں تھا اس لیے سینیٹ اور سنڈیکیٹ نے ان کو اجازت دی تھی کہ پشاور یونیورسٹی کے سٹیٹیوٹز (statutes) کو فالو کیا جائے۔ یونیورسٹی میں انتظامی عہدے تقریباً سارے خالی ہے اس لیے ماڈل سٹیٹیوٹز کو فالو کرنا ممکن ہی نہیں۔
خیال رہے چترال سے سابق ایم پی اے عبدالرحمان قریشی اور مولانا ہدایت الرحمان نے ان مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف صوبائی محتسب کے آفس میں بھی درخواست دے رکھے ہیں۔
اس درخواستوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے دونوں سابق ایم پی ایز اس لیے ان کے خلاف درخواستیں دے رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ان کے بندے اپوائنٹ نہیں کیے۔
’مولانا عبدالرحمان اور مولانا ہدایت 10 لوگوں کی فوج لے کر یونیورسٹی آدھمکتے تھے کہ ان کو بھرتی کرو، گورنر نے کہا ہے۔ چونکہ گورنر ان کی پارٹی کا ہے اس لیے یہ اپنے آپ کو بھی گورنر سمجھتے ہیں۔‘
’مولانا ہدایت الرحمان تو بہت جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی میں مجھ پرالزام لگایا کہ میں نے ڈاؤن ڈسٹرکٹ کے بندوں کو ڈرائیور کی پوسٹوں پر تقرر کیا۔ کیونکہ ان کا بندہ نہیں لگایا تھا اس لیے انہوں نے جھوٹا الزام لگایا۔‘
دوسری جانب مسلم لیگ ن چترال کی جانب سے بھی باضابطہ بیان جاری کرکے مذکورہ مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے اعلی حکام سے ان کا نوٹس لینے کا کہا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قائم مقام رجسٹرار نہ صرف اشتہار کا مشتہر تھا بلکہ خود امیدوار اور ممتحن بھی تھا۔ رجسٹرار پر الزام ہے کہ اس نے مقابلے کے دوسرے امیدواروں کو نااہل کرنے کے لیے قوانین کے خلاف اشتہار دیا تھا۔
یونیورسٹی کے ایک اہکار کے مطابق رجسٹرار نے نہ صرف بحیثیت رجسٹرار سکروٹنی کمیٹی کا انچارچ تھا بلکہ جس سلیکشن بورڈ پینل کا بحیثیت رجسٹرار وہ سیکریٹری تھا اسی سلیکشن بورڈ پینل کے سامنے بحیثیت امیدوار براٸے اسسٹنٹ پروفیسر اس کا انٹرویو بھی ہوا۔
اس حوالے سے ڈاکٹر ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ رجسٹرار نے کسی بھی ایسے ٹیسٹ یا انٹرویوں میں نہیں بیٹھا جہاں ان کی تقرری زیر غور آیا۔
تقرریوں کے پراسیس سے آگاہ یونیورسٹی کے ایک ملازم کے مطابق ’مستقل تعیناتیوں کے پراسیس کے دوران امیدوار ہی مختلف ایکیڈیمک ڈیپارٹمنٹس کے سربراہ تھے۔‘ مبینہ طور پر کئی ایک امیدواروں نے اپنے آپ کو مستقل کروانے کے لیے اپنی مرضی کے ممتحن پینلیسٹ خود تجویز کیے۔ اور امیدواروں کے ریکمنڈ کیے ہوٸے ممتحن نے ہی سلیکشن بورڈ میں ان کا انٹرویو لیکر انھیں مستقل کرنے کے لیے ریکمنڈ کیا۔
اس الزام کا جواب دیتے ہوئے وائس چانسلر چترال یونیورسٹی کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوتا کہ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کوئی ایک آدھ بندہ ہی بطور ممتحن ریمکنڈ کرتا ہے بلکہ وہ 10 سے 15 افراد کی لسٹ بھیجتے ہیں اور ان کو بالکل نہیں پتہ ہوتا کہ امتحان میں ان میں سے کس کو بطور ممتحن لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تقرریوں کے لیے ’غیر قانونی اشتہار‘ کو قانونی بنانے کے لیے وائس چانسلر اور رجسٹرار خود اناملی کمیٹیAnamoly Committee کا حصہ رہ کر غیر قانونی طور پر قانون میں ترمیم کروائی جو کہ نہ صرف کے پی یونیورسٹیز ایکٹ کی روح کے خلاف ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض شعبہ جات میں ان امیدواروں کو مستقل تعینات کیا گیا جس کو اوورایج تھے۔ ایچ ای سی ریگولیشن کے مطابق اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے عمر کی بالائی حد 45 سال اور لیکچرر کے لیے 40 سال ہے۔ تاہم الزام ہے کہ وائس چانسلر اور قائم مقام رجسٹرار نے اشتہارات میں عمر کی بالائی حد 55 سال رکھ کر نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ اپنے من پسند افراد کو بھی نوازا۔
اس پر وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ عمر کی بالائی حد کا تعین مجاز اتھارٹی کی اجازت سے کیا گیا اور تمام تقرریاں عمر کے مقرر کردہ حد کے اندر ہی کی گئی۔
یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر یونیورسٹی کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ ’میں نے جب بطور وائس چانسلر چارج لیا تھا تو میرا عزم تھا کہ چترال یونیورسٹی کو سیٹ آف لرننگ بناؤں، ایک نئی یونیورسٹی تھی۔ لیکن جس طرح کی مہم میرے اور یونیورسٹی کے خلاف چلائی جارہی ہے وہ افسوسناک ہے۔ اس پر مجھے دکھ ہوا ہے۔‘

