سائفر کیس: عمران خان کو پنجرے میں لایا گیا، فردِ جرم عائد نہ کی جا سکی
اڈیالہ جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد وکیل صفائی شیر افضل مروت نے میڈیا سے گفتگو میں بتایاہے کہ عمران خان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر تھی مگر گزشتہ پیشی پر نقول نہیں دی گئیں اس لیے فرد جرم کی کارروائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ آج نقول مل گئی ہیں، اب آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔
وکیل کے مطابق چیئرمین پی ٹی ائی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو آج بھی پنجرے میں عدالت لایا گیا۔
جج ابوالحسنات نے کہا ہے سائفر کیس کی اگلی سماعت بڑے کمرے میں ہو گی۔
9 مئی واقعات کے حوالے سے پریس کانفرنس کرنے والے 22 افراد کے 164 کے بیانات لیے گئے۔
خدشہ ہے اسی بنیاد پر چیئرمین پی ٹی آئی کو ملٹری کورٹ بجھوایا جائے گا۔
شیر افضل مروت کے مطابق ورکرز کے لیے چیئرمین کا پیغام ہے کہ جہاں ٹرائل کریں کارکن تحمل کا مظاہرہ کریں۔
سائفر کیس کی اگلی سماعت ایک ہفتے بعد ہو گی، جج نے ابھی تاریخ دینی ہے۔
وکیل کے مطابق جج نے کہا ہے کہ اس کیس کو کیس کی طرح سے چلائیں گے۔
دوسری جانب پراسیکیوٹر شاہ خاور نے بتایا کہ سائفر کیس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی، آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی.
عمران خان کے وکیل سلمان صفدر وکیل نے بتایا کہ کیس کے جیل ٹرائل پر فیصلہ سنایا جا چکا ہے لیکن اس کی کاپی ابھی نہیں ہوئی، پیر تک تمام درخواستوں پر فیصلہ آ جائے گا.
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو تمام قانونی معاملات پر آگاہ کیا گیا، چیئرمین نے جیل ٹرائل کے خلاف خارج درخواست کو چیلنج کرنے کی ہدایت کی ہے،سلمان اکرم راجہ اس فیصلہ کو چیلنج کریں گے.
وکیل نے کہا کہ آج مقدمہ کی نقول وصول کرلی ہیں،عدالت سے استدعا کی ہے کہ مناسب اور فیئر کارروائی ہونے چاہیے. فرد جرم عائد کرنے کے لئے ہمیں ایک ہفتے کا وقت نہیں دیا گیا.
سلمان صفدر کے مطابق ہمیں جو نقول دی گئیں اس میں سائفر سرے سے موجود ہی نہیں،ہونا چاہیے تھا کہ اصل سائفر سے میچ کیا جاتا پھر کیس شروع ہوتا، ایف آئی آر میں الزام یہ ہے کہ سائفر کے کانٹینٹ کو چیئرمین پی ٹی آئی نے ٹوسٹ کیا ہے.
وکیل نے کہا کہ سمجھتا ہوں یہ چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس ہے،اور انھیں رہائی ملنی چاہیے. چیئرمین پی ٹی آئی 14 ماہ خود کہتے رہے مجھے عدالتوں میں بلایا جائے. جیل ٹرائل میں شفافیت برقرار نہیں رکھی جا سکتا،اس کیس میں سیکرٹ کارروائی کی گئی جس کا وکلاء کو بھی علم نہیں تھا. سائفر کیس کی ملکی و بین الاقوامی سطح پر اہمیت ہے.

