فوج کو پارکنگ ایریا میں کثیر منزلہ بلڈنگ بنانے کی اجازت نہیں: سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے کراچی کے عسکری فور کے پارکنگ ایریا میں فوج کو کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روکنے کے فیصلے کی توثیق کر دی۔
بدھ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی وکیل تبدیلی اور خصوصی نمائندگی کی درخواست ناقابل سماعت ہونے پر مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ نے آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے درخواست دائر کیے جانے پر سوالات اٹھائے اور چیف جسٹس نے کہا کہ
آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا قانونی وجود کیا ہے؟
سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ نے سوال کیا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کے قانونی وجود کے بارے آئین، رول آف بزنس 1983 یا کسی قانون میں ذکر ہے؟
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا وفاقی حکومت کے ادارے اپنے کیسز میں پرائیویٹ وکیل ہائر کر سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ قانونی وجود نہ رکھنے والے کی درخواست دائر کرنے کی اجازت دینے پر ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پر تعجب ہوا،
قانونی وجود نہ رکھنے پر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ درخواست دائر نہیں کر سکتا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ متاثرہ فریق ہو تو وفاقی حکومت کے ذریعے درخواست دائر کر سکتی ہے،
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے مطابق موجودہ کیس میں آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے تو وفاقی حکومت، صدر مملکت سمیت دیگر کو فریق بنایا۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا یہ وفاقی حکومت کا وفاقی حکومت کے ہی خلاف کیس ہے؟ آرمی جنرل ہیڈ کوارٹرز ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ کا حق دعوی ہو ہی نہیں سکتا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نہ کوئی فلاحی ادارہ ہے اور نہ ہی کارپوریشن۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جب ایک ادارہ آئین و قانون میں وجود رکھتا ہی نہیں تو درخواست کیسے دائر کر سکتا ہے؟
وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ صدارتی آرڈر 1982 سے وجود میں آیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ صدارتی آرڈر میں آئین و قانون کا حوالہ کہاں ہے؟
جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل عابد زبیری سے کہا کہ آرٹیکل 245 پڑھیں کیا کہتا ہے؟
وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آرٹیکل 245 کے مطابق وفاقی حکومت کے احکامات پر افواج ملک کا بیرونی خطرات سے دفاع کرتی ہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ افواج کا آرٹیکل 245 سے باہر کوئی کام نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ انتہائی سینئر وکیل ہیں اور ایک قانونی وجود نہ رکھنے والے ادارے کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت قانونی وجود نہ رکھنے والے درخواست گزار کا کیس نہیں سن سکتی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شکایت کنندگان کے وکیل معز جعفری اسی لیے کنارہ کش ہو گئے کہ انہیں پتہ تھا ان سے سنبھلے گا نہیں۔
عدالت نے شکایت کننگان کے وکیل معز جعفری کی عدم پیشی پر خصوصی نمائندگی کی درخواست خارج کر دی۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔
سندھ ہائیکورٹ نے عسکری فور میں پارکنگ ایریا میں کثیر منزلہ عمارت کی تعمیر روک دی تھی۔
ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف آرمی ہاوسنگ ڈائریکٹوریٹ نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

