چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے لیے پُراسرار کردار منیر احمد کون ہے؟
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ گزشتہ دو دن سے عدالت میں ایک درخواست گزار منیر احمد کو مشکوک کردار قرار دے رہے ہیں۔
جمعے کو الیکشن کی تاریخ کے تعین کے مقدمے کی سماعت مکمل کرنے کے بعد حکمنامہ لکھواتے وقت چیف جسٹس نے میڈیا کے نمائندوں اور وکلا کو مخاطب کرتے ہوئے سخت باتیں کیں۔
ایک موقع پر چیف جسٹس نے وکیل انور منصور خان کو مخاطب کر کے کہا کہ وہ دوبارہ عدالت آ گئے ہیں مگر اُن کے موکل یا درخواست گزار کہاں ہیں؟
چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ جس درخواست گزار کی طرف سے وہ عدالت میں پیش ہو رہے ہیں وہ ایک پراسرار کردار ہے جس کو آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔
ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار منیر احمد کہاں ہے؟ اس کو جانتا ہی کوئی نہیں۔ اُس نے آج تک اپنا چہرہ نہیں دکھایا حالانکہ وہ خود بھی وکیل ہے۔
انہوں نے درخواست گزار کے وکیل انور منصور سے کہا کہ اتنے وکیل آئے ہیں وہ (منیر احمد) نہیں آئے، ہمیں شک ہو رہا ہے۔ کیا واقعی کوئی منیر احمد نامی شخص موجود بھی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو ایسے درخواست گزاروں کے حوالے سے تشویش ہے، یہ درخواستیں دائر کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔
"درخواستگزار منیر احمد ایک مشکوک شخصیت ہیں، ان پر بہت سے سوالات ہیں۔“
حکمنامے میں عدالت نے لکھا کہ اٹارنی جنرل نے بھی 8 فروری کو عام انتخابات کے انعقاد پرکوئی ذعتراض نہیں کیا، صدر مملکت اور الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کے لیے پورے ملک کی تاریخ دے دی۔
حکمنامے کے مطابق وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اتفاق کیا کہ انتخابات کا انعقاد بغیر کسی خلل کے ہو گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ انتخابات انشااللہ 8 فروری کو ہوں گے، ہم نے انتخابات کے انعقاد کے لیے سب کو پابند کر دیا،کوئی رہ تو نہیں گیا۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کو پتہ ہے ہم نے کیسے عملدرآمد کروانا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ میڈیا پر انتخابات کے حوالے سے مایوسی پھیلانے پر اٹارنی جنرل پیمرا کے ذریعے کارروائی کروائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا نے شکوک شبہات پیدا کیے تو وہ بھی آئینی خلاف ورزی کریں گے، کسی کو شک کے ٹی وی پر بیٹھ کر بات کرنے کے بجائے بیوی سے بات کرے، دوستوں سے بات کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کسی سے فیصلے نہیں ہو پا رہے تو وہ گھر چلا جائے، اگر میں زندہ رہا تو میں بھی یہ ہی کہوں گا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آزاد میڈیا ہے مگر آئین کا پابند ہے، ہم ان کو بھی دیکھ لیں گے۔
چیف جسٹس نے میڈیا کی طرف دیکھ کر اعلان کیا کہ میڈیا میں سے کسی کو اعتراض ہے تو ابھی بتا دے، جس پر مطیع اللہ جان نے بلند آواز سے کہا کہ اس کا جواب صحافی باہر جا کر (اپنے فورم میڈیا) پر دیں گے.
عدالت نے حکمنامے کے ساتھ تمام درخواستیں نمٹا دیں۔

