ہتھکڑی اور چہرے پر غلاف، فواد چوہدری عدالت میں پیش
اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو ہتھکڑی لگا کر اور چہرے پر غلاف ڈال کر عدالت میں پیش کیا ہے۔
اتوار کو اسلام آباد پولیس کی جانب سے عدالت میں پیش کرنے کے لیے فواد چوہدری کو بکتربند گاڑی کا استعمال کیا.
پولیس نے عدالت میں جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ نے فواد چوہدری کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم جاری کیا۔
فواد چوہدری کو سنیچر کو اسلام آباد میں اُن کے بھائی فیصل چوہدری کے گھر کے باہر سے گزشتہ روز درج کیے گئے ایک مقدمے میں حراست میں لیا گیا تھا۔
عدالت میں فواد چوہدری نے کہا کہ ان کےپھیپڑوں کا مسئلہ ہے، ڈاکٹر تک رسائی دی جائے.
فواد چودھری کا کہنا تھا کہ مقدمے کا مدعی ظہیر نامی شخص اتنا سست ہے کہ عدالت بھی نہیں آسکا.
فواد چوہدری نے استدعاکی کہ ان کو بچوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے.
فواد چودھری پر 50 لاکھ روپے کی خرد برد کا مقدمہ ایک شہری نے درج کرایا ہے. لین دین کا یہ واقعہ تین برس قبل اکتوبر 2021 میں پیش آیا تھا.
درج کیے گئے مقدمے کے مطابق مدعی نے بتایا کہ فواد چودھری کے پاس 50لاکھ روپے امانتاً رکھوائے، پھر کہا دو بچوں کو سرکاری ملازمت دلوا دیں تو مزید 50 لاکھ بھی ادا کروں گا۔نوکری نہیں ہوئی تو پیسوں کی واپسی کے تقاضا پر فواد چودھری نے مسلح گن مینوں کے ہمراہ دھمکیاں دیں۔
شہری محمد ظہیر نے تھانہ آبپارہ میں 4 نومبر کو مقدمہ درج کرایا.
سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نےلین دین کے تنازعے پر درج مقدمہ میں دہشت گردوں کی طرح چہرے پر کپڑا ڈال کر عدالت لانے پر احتجاج کیا.
فواد چودھری اور ان کے بھائی ایڈووکیٹ فیصل چودھری نے بھی عدالت میں پولیس کے رویے پر احتجاج کرتے ہوئے جج سے کارروائی کی استدعا کی.

