پاکستان

افغان رہنماؤں کے بیانات کے بعد پاکستان میں حملے تیز ہوئے: نگراں وزیراعظم

نومبر 8, 2023

افغان رہنماؤں کے بیانات کے بعد پاکستان میں حملے تیز ہوئے: نگراں وزیراعظم

پاکستان کے نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ افغان رہنماؤں کے بیانات کے بعد پاکستان میں حملے تیز ہوئے جو معنی خیز ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کی برسوں تک میزبانی کی، لیکن افغان رہنماؤں کی طرف سے دیے جانے والے بیانات دھمکی آمیز، غیرضروری اور افسوس ناک ہیں۔‘

گذشتہ ہفتے افغانستان کے عبوری وزیراعظم ملا حسن اخوند نے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ ’افغانوں کی تذلیل نہ کریں ان کو واپسی کے لیے وقت دیا جائے تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنے ملک واپس جا سکیں۔‘

انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ’افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں 60 فیصد اضافہ ہوا۔‘

انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ ’رواں برس فروری میں ہونے والے حملے میں ایک سو افراد ہلاک ہوئے اور اس کے بعد پاکستان نے اپنا وفد افغانستان بھیجا اور انہیں تحریک طالبان کے خلاف کارروائی کے لیے کہا گیا۔ یہاں تک کہا کہ آپ کو پاکستان اور ٹی ٹی پی میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔‘

’پاکستان میں ہونے والے حملوں کی تفصیلات افغانستان کی عبوری حکومت کو فراہم کی گئیں، لیکن انہوں نے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی۔‘

نگراں وزیراعظم نے کہا کہ ’پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکین وطن کا ہاتھ ہے۔ ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا اور غیرقانونی تارکین کو واپس بھیجنے کے اقدامات کیے۔‘

’افغانستان کی عبوری حکومت نے (اس حوالے سے) ایسے بیانات دیے جو افسوس ناک ہیں۔ اس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے ایسے واقعات رونما ہوئے جو معنی خیز ہیں اور ریاست پاکستان کے خدشات کی توثیق بھی کرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغان ٹرانزٹ ٹریڈ جاری رکھے ہوئے ہے اور جاری رکھے گا۔‘

انوار الحق نے کہا کہ ’امریکہ سے اس بارے میں مختلف سطحوں پر بات ہوئی ہے، اگر معاونت کی گئی تو بہتر ہے ورنہ ہم اپنے طور پر اقدامات کر رہے ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے