پاکستان

سپریم کورٹ: بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے نیا حکمنامہ آ گیا

نومبر 8, 2023

سپریم کورٹ: بحریہ ٹاؤن کراچی کے لیے نیا حکمنامہ آ گیا

سپریم کورٹ میں بحریہ ٹائون کراچی کی زمین کے فیصلے پر عملدرآمد کیس میں نیا حکمنامہ آ گیا ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں رقم جمع کرانے والے افراد اور کمپنیوں کو نوٹس جاری کیے تھے۔

مشرق بینک کے وکیل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور بتایا کہ نوٹس دینے کی وجہ سمجھ نہیں آئی۔

وکیل نے کہا کہ بینک نے اگر رقم منتقل کی بھی ہے تو کسی اکائونٹ ہولڈر نے ہی دی ہو گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بینک والے بتا دیں رقم کس نے منتقل کی تھی۔

وکیل نے بتایا کہ تفصیلات فراہم کی جائیں تو شاید کچھ بتانے کی پوزیشن میں ہوں، روزانہ ہزاروں ٹرانزیکشنز ہوتی ہیں اس لیے فی الوقت کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں۔

بحریہ ٹائون کی گارنٹی دینے والے ملک ریاض حسین کے وکیل سلمان بٹ عدالت میں پیش ہوئے جن سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ علی ریاض کے بھی وکیل ہیں؟

وکیل سلمان بٹ نے بتایا کہ علی ریاض اور ملک ریاض الگ شخصیات ہیں مجھے علی ریاض کے حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا باپ بیٹا آپس میں بات نہیں کرتے؟ مناسب ہوگا ملک ریاض کے بیٹے اور اہلیہ کے حوالے سے معلوم کر لیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا نہ ہو عدالت کوئی حکم جاری کرے اور ان کے حقوق متاثر ہوں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم حتمی ہو چکا اس پر عملدرآمد ہو صورت ہونا ہے، ایسا ممکن نہیں کہ عدالت اپنے حکم سے پیچھے ہٹ جائے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ گارنٹی دینے والوں کے خلاف کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے سندھ حکومت اور ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی کی دوستی ہو گئی ہے، رقم کا ایک حصہ بحریہ ٹائون نے جمع کرایا دوسرا بیرون ملک سے آیا۔

چیف جسٹس کے مطابق ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی اور سندھ حکومت دونوں کہتے تھے پیسے انہیں دیے جائیں، اب دونوں کا اتفاق ہے کہ رقم سندھ حکومت کو منتقل کی جائے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا ایم ڈی اے نے بحریہ ٹائون کو تمام متعلقہ منظوریاں دی تھیں؟

ایم ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سولہ ہزار 896 ایکڑ کے مطابق لے آئوٹ پلان کی منظوری دی تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ ملیر ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے قانونی عمل کے بغیر زمین کیسے بحریہ ٹائون کے حوالے کر دی؟ زمین عوام کی تھی ایم ڈی اے کی ذاتی نہیں۔

جسٹس اطہر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل ہر صورت ہو گا ورنہ عدالت اس کیس کے ذریعے مثال قائم کرے گا۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں ملک کا قانون بالا ہو گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ قانون سے الگ ہوتا ہے؟

وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے متعدد فیصلے ہیں کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو۔

جسٹس اطہر نے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں یہ آپ کا ذاتی کیس نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا بحریہ ٹاؤن کو جو زمین ملی اس کا آڈٹ ہوا، چار سال تک کیس کیوں سماعت کے لیے مقرر نہ ہوا یہ بات ہضم نہیں ہو رہی۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کے کسی فیصلے پر عمل درآمد کا فورم کیا ہے؟ معاملہ سندھ کا تھا تو آپ نے سندھ ہائی کورٹ سے کیوں رجوع نہیں کیا؟

بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ اگر آئین کو دیکھیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ درست ہی نہیں تھا۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ججز کا آئینی خلاف ورزی کرنا تو مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، کیا سپریم کورٹ نے مس کنڈکٹ کیا؟

وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آپ ایسے دلائل بھی نہ دیں۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے یوسف رضا گیلانی توہین عدالت کیس کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی توہینِ عدالت کی کارروائی چلانے کا فیصلہ نہیں کیا۔

جسٹس اطہر نے وکیل سے کہا کہ آپ جذباتی نہ ہوں۔

چیف جسٹس نے وکیل سلمان بٹ سے کہا کہ ہم آپ سے سوال پوچھ رہے ہیں آپ ناراض ہو رہے ہیں، بحریہ ٹاؤن کی حیثیت زمین کے مالک کی نہیں بلکہ بلڈر کی ہے۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 23 نومبر ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کرتے ہوئے بحریہ ٹاؤن کے قبضے میں موجود زمین کی پیمائش اور حدبندی کا حکم دے دیا۔

عدالت نے کہا کہ سندھ حکومت اور ایم ڈی اے فوری طور پر پیمائش کروائیں، سپارکو سمیت کسی بھی ادارے پیمائش اور حدبندی کے لیے مدد لے سکتے ہیں۔

عدالت کے مطابق بحریہ ٹاؤن کراچی پر نیشنل پارک کی زمین پر قبضے کا الزام ہے، سندھ حکومت بحریہ کے قبضے میں موجود زمین بارے تفصیلی رپورٹ جمع کرائے۔

سندھ حکومت بتائے کتنی زمین پر بحریہ ٹاؤن نے تجاوز کیا، یہ بھی بتایا جائے کتنی زمین پرائیویٹ زمین مالکان سے خریدی گئی۔

عدالت نے دیگر متفرق درخواستیں بھی مرکزی مقدمے میں یکجا کر دیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ایک موقع پر پوچھا کہ جن 12 ہزار ایکڑ کا قبضہ بحریہ کے پاس ہے دہاں سے منافع کما رہا ہے،کیا ایف بی آر نے بحریہ ٹائون کا آڈٹ کیا ہے؟
وکیل نے جواب دیا کہ بحریہ ٹائون کو مارکیٹ سے زیادہ قیمت لگا کر تعصب کا نشانہ بنایا گیا. چیف جسٹس نے کہا کہ آپ لالی ووڈ والی ڈومین میں جا رہے ہیں تاکہ خبر بن سکے، خبر آپ بنوا چکے ہیں، اب قانون کی بات کریں.

چیف جسٹس نے کہا کہ بحریہ ٹائون نے 460 ارب کی پیشکش خود کی تھی، اب اگر برے سودے میں پھنس بھی گیا ہے تو ذمہ داری اس کی اپنی ہے.

جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا سرکاری زمین نیلامی کے بغیر کسی کو دی جا سکتی ہے؟ بحریہ ٹائون نے نیب سے بچنے کیلئے 460 ارب کی پیشکش کی تھی، بحریہ ٹائون کیلئے عدالتی احکامات کی اہمیت ہی نہیں ہے.

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ نیب کو عدالتی فیصلے کی روشنی میں ریفرنس دائر کرکے ریکوری کرنے دیں.

عدالت نے سماعت کے اختتام پر لکھوایا کہ مشرق بنک متعلقہ معلومات ملنے پر رقم بھیجنے والے کی تفصیلات فراہم کرے.

عدالت نے 190 ملین پائونڈ اور بحریہ ٹائون سے متعلق درخواستیں 23 نومبر کو مقرر کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ جو پیسے باہر سے آئے وہ بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹ میں کیوں آئے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ حکومت کہتی ہے پیسے اسے ملنے چاہیں، فریقین بتائیں یہ رقم کس کو ملنی چاہیے.

بحریہ ٹاؤن کےوکیل نے کہا کہ رقم سندھ حکومت کو ملنی چاہیے. ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بھی کہا کہ باہر سے ملنے والی رقم سندھ حکومت کو ہی ملنی چاہیے.

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملے پر اگلی سماعت پر دیکھیں گے.

ایک درخواست گزار کے وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ بحریہ ٹاؤن قبضہ کرتے کرتے بلوچستان کے بارڈر تک پہنچ گیا ہے،چالیس ہزار ایکڑ زمین پر بحریہ ٹاؤن نے قبضہ کر رکھا ہے، نیشنل پارک کی زمین پر بھی قبضہ کیا گیا ہے.

چیف جسٹس نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل سلمان بٹ کی طرف دیکھ کر کہا کہ یہ تو رو رہے ہیں انھیں زمین ہی پوری نہیں ملی.

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا اس ریاست میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے، سندھ حکومت کہاں ہے.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے