پاکستان

عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، القادر کیس میں بھی جیل

نومبر 27, 2023

عمران خان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، القادر کیس میں بھی جیل

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 190 ملین پاؤنڈ کے القادر ٹرسٹ کیس میں تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کے مزید جسمانی ریمانڈ نیب پراسیکیوٹر کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

پیر کو القادر ٹرسٹ 190 ملین پاؤنڈ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی 14روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کرنے کے احکامات دیے گئے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد عمران خان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی نیب کی استدعا پر فیصلہ سنایا۔

جیل انتظامیہ کے مطابق عدالت نے 190 ملین پاونڈ کیس کی سماعت 19 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر وکیل لطیف کھوسہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ عدالت نے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے تھے یہ جسمانی ریمانڈ کا مقدمہ نہیں، سپریم کورٹ نے 190 ملین پاونڈ براہ راست سرکاری خزانے میں منتقل کر دیے ہیں۔

وکیل کے مطابق ملک ریاض کے ذمے 460 ارب روپیہ ڈالا گیا تھا کہ انھوں نے زمین سندھ میں کم قیمت پر خریدی۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیف جسٹس کی سربراہی میں سماعت ہوئی جس میں فریقین کو بلایا گیا تھا، اس میں فیصلہ کیا گیا کہ 35 ارب روپے سپریم کورٹ کے اکاونٹ سے نکال کرسرکاری خزانے میں منتقل کر دیے اس طرح القادر کا کیس تو اب ختم ہو گیا۔

ان کے مطابق نیب اگر برآمدگی کرتی تو وہ اپنی کٹوتی لیتے۔ ہم کہتے تھے نیشنل کرائم ایجنسی برطانیہ نے پیسے سپریم کورٹ کے اکاونٹ میں بھیجے ہیں، وہاں درخواست دے کر پیسے لے لے۔

وکیل نے کہا کہ ہم کہتے تھے کہ چیئرمین پی ٹی آئی، بشری بی بی کے اکاونٹ میں ایک دھیلہ نہیں آیا، ان کا لینا دینا ہی نہیں اس رقم سے۔
عدت کے دوران نکاح والے کیس میں بھی کچھ نہیں، میڈیا ٹرائل کے لئے ایک مہم چلائی جا رہی ہے۔ ایسی ہی ایک شکایت کو مجسٹریٹ مسترد کر چکا ہے۔

ابھی مانیکا سے جو درخواست دلوائی گئی ہے،اب وہ انکوائری کی سٹیج پر ہے،ابھی کسی کو طلب نہیں کیا گیا وہ خارج بھی ہو سکتی ہے

آج جو ڈرامہ رچایا گیا ہے،یہ ایک فساد چاہتے ہیں،کسی طریقے سے الیکشن ہو موخر کرایا جائے۔چیئرمین نے کہا ہر صورت الیکشن لڑیں گے،ڈٹ کر مقابلہ کریں گے

نیب پولیٹیکل انجینئرنگ کا ادارہ ہے،سیاسی انتقام لینے کا ادارہ ہے۔ حکومت ہمیشہ اس کو باندی اور لونڈی بنا کر استعمال کرتی ہے

بادشاہ سلامت کے کیسسز کس طرح داخل دفتر کرکے ختم کئے جا رہے ہیں۔ بادشاہ سلامت کی اس کیس میں بھی چٹ مل جائے گی، اس طرح بے گناہی نہیں ملتی۔

چیئرمین پی ٹی آئی کو عدالت پیش کرنے کے ابھی تک کوئی آثار نہیں۔ سیکورٹی فراہم کرنا ریاست کا کام ہے،بند کمروں کے فیصلوں کو کوئی نہیں مانتا۔

190 ملین پاونڈ کیس میں ضمانت بعد از گرفتاری دائر کرنے بارے آج فیصلہ کرلیں گے

زیادہ امکان یہی ہے کہ ہم پوسٹ اریسٹ ضمانت پر جائیں گے۔ اگر سپریم کورٹہماری درخواست منظور کرتی ہے تو سارا کچھ واش آوٹ ہو گا، ہم یہ نہیں چاہتے۔

سماعت کے دوران گزشتہ سماعت والے نقاط کو بڑھا کر دہرایا گیا،اور ٹرسٹ ڈیڈ کا نقطہ اٹھایا۔

یہ اصل ٹرسٹ ڈیڈ لے چکے ہیں ہر پیشی پر آکر ایک نئی کتھا سناتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی کہتے ہیں 10 منٹ مجھ سے سوال پوچھتے ہیں اور پھر 3،4 گھنٹے بیٹھ کر گپیں مارتے ہیں۔

یہ تفتیش کا ایک ڈھونگ تھا،جو بھی بھیجنے والے تھے،ان کو کارروائی دکھانے کا شوق تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے