پاکستان

تاحیات نااہلی کتنی ہوگی؟ سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

دسمبر 11, 2023

تاحیات نااہلی کتنی ہوگی؟ سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تاحیات نااہلی کے حوالے سے بنایا گیا قانون اور عدالتی عظمیٰ کے فیصلے آپس میں تضاد رکھتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس لے لیا.

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل اور تمام صوبائی ایڈوکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کیے.

تاحیات ناہلی کی مدت کے تعین کے معاملے کو لارجز بنچ کے سامنے مقرر کرنے کیلئے ججز کمیٹی کو بھجوا دیا گیا.

کیس کی سماعت جنوری 2024 میں ہوگی.

سپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا،موجودہ کیس کا نوٹس دو انگریزی کے بڑے اخبارات میں شائع کیاجائے.

سپریم کورٹ نے نوٹس میر بادشاہ قیصرانی کی تاحیات نااہلی کے کیس میں لیا.

سپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ کیس کو انتخابات میں تاخیر کے آلہ کار کے طور پر استعمال نہیں کیا جائےگا۔

عدالتی آرڈر کے مطابقموجودہ کیس کا نوٹس دو انگریزی کے بڑے اخبارات میں شائع کیا جائے۔

حکمنامے کے مطابق کمیٹی طے کرے گی لارجر بنچ پانچ رکنی ہوگا یا سات رکنی۔

عدالتی حکمنامے کی نقل الیکشن کمیشن کو بھی ارسال کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

حکمنامے میں کہا گیا کہ کوئی سیاسی جماعت اس کیس میں فریق بننا چاہے تو بن سکتی ہے۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انتخابات کے حوالے سے کوئی غیر یقینی صورتحال نہیں، اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ سپریم کورٹ کی توہین ہوگی۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر کسی کی سزا ختم ہو جائے تو تاحیات نااہلی کیسے برقرار رہ سکتی ہے؟

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جھوٹے بیان حلفی پر کاغذات نامزدگی جمع کرانے والے کو نااہل ہی ہونا چاہیے، سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کی تشریح پر پانامہ کیس میں فیصلہ دے دیا تھا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ کی تاحیات نااہلی کے معاملے پر دو آرا ہیں۔

انہوں نے پوچھا کہ نیب کیسز میں اگر تاحیات نااہلی کی سخت سزا ہے تو قتل کی صورت میں کتنی نااہلی ہوگی؟
وکیل نے جواب دیا کہ قتل کے جرم میں سیاست دان کی نااہلی پانچ سال کی ہوگی۔

جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ بچے کے ساتھ زیادتی جیسے سنگین جرم کی سزا بھی پانچ سال نااہلی ہے۔

چیف جسٹس کے مطابق تاحیات نااہلی اور آرٹیکل 62 ون ایف سے متعلق کوئی نیا قانون بھی آچکا ہے؟

وکیل نے کہا کہ حال ہی میں الیکشن ایکٹ میں ترمیم کر کے نااہلی کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال کر دی گئی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے