سینے میں درد، رات بھر سونے نہیں دیا گیا: شاہ محمود قریشی
راولپنڈی پولیس نے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو جی ایچ کیو حملہ کیس میں گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش کیا۔
پولیس حکام نے عدالت سے سابق وزیر خارجہ کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس کو مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل کر دیا گیا.
اس کے بعد وائس چیئرمین پی ٹی ائی شاہ محمود قریشی کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا.
شاہ محمود قریشی کو ڈیوٹی جج راولپنڈی اے ایس جے سید جہانگیر علی نے جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بجھوانے کا حکم دیا تھا
شاہ محمود قریشی کو گزشتہ روز ضمانت پر اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد گرفتار کیا گیا تھا
وائس چیئرمین پی ٹی ائی کو جی ایچ کیو گیٹ حملہ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا
شاہ محمود قریشی کو بکتر بند گاڑی کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا
شاہ محمود قریشی بکتربند گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے
میڈیا نمائندوں کو دیکھ کر شاہ محمود قریشی نے وکٹری کا نشان بھی بنایا.
قبل ازیں عدالت میں شاہ محمود نے کہا کہ وہ کیسے عوام اور امن عامہ کے لیے خطرہ ہیں؟کئی ماہ سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
شاہ محمود کا کہنا تھا کہ ایک رات بتایا گیا کہ تھری ایم پی او واپس لیتے ہیں، 26 تاریخ کو تھری ایم پی او کا آرڈر دیا گیا ،پھر واپس لے لیا گیا.
ان کا کہنا تھا کہ ہاتھ سے چھبیس تاریخ کاٹ کر 27 کر دی گئی۔
شاہ محمود نے کہا کہ اُن کو غیرقانونی طور پر رکھا گیا، جیل کی حدود میں تھا وہاں پنجاب پولیس گرفتار کرنے پہنچی۔
شاہ محمود کا کہنا تھا کہ پانچ بار ممبر پارلیمنٹ رہ چکا ہوں، ایس ایچ او جمال نے مجھے مکے لاتیں ماریں۔
شاہ محمود نے بتایا کہ ایس ایچ او اشفاق چیمہ نے مجھے گالیاں دیں۔
میری چھاتی میں درد ہو رہا تھا، کئی بار ایس پی کو کہا کہ ڈاکٹر کے پاس لے جائے،
پوچھا گیا کہ آپ کو کس اسپتال میں لے کر جائیں؟
شاہ محمود کا کہنا تھا کہ اُن کو کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں لے کر گئے، ایک ٹیم آئی اور بتایا کہ نو مئی واقعے پر بیان ریکارڈ کرنا ہے، یہ لوگ مجھے 9 مئی میں ملوث کرنا چاہتے ہیں۔
شاہ محمود نے کہا کہ میں 9 مئی کو کراچی میں تھا بیگم کی سرجری ہوئی تھی، میں موقع پر موجود نہیں تھا مجھ سے بیان لینے پہنچ گئے۔
شاہ محمود نے بتایا کہ کل رات ایک ٹھنڈے کمرے میں رکھا گیا، رات بھر سونے نہیں دیا گیا۔
شاہ محمود کا کہنا تھا کہ مجھے لائٹیں جلا کر بار بار جگایا گیا۔ شور مچایا گیا۔
شاہ محمود نے بتایا کہ اُن کو ذہنی اور جسمانی طور پر تنگ کیا گیا۔
پراسیکیوشن کے وکیل نے اکرام امین نے ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ دہشت گردی کے مقدمہ میں 90 روز تک ریمانڈ ہو سکتا ہے ۔
پراسیکیوٹر نے ریمانڈ کے لیے دلائل میں کہا کہ ہم نے ایف آئی اے ، پیمرا اور ایف آئی سے رپورٹ لی، ان سب میں شاہ محمود کے خلاف شواہد ملے، سوشل میڈیا پر بھی شواہد سامنے آئے۔
وکیل نے بتایا کہ تمام تر ثبوتوں کو عدالت میں پیش کیا ہے ۔
شاہ محمود قریشی نے عدالت میں جج سے گفتگو میں کہا کہ ان کو ایک بہت ذمہ دار شخصیت نے بتایا تھا کہ نو مئی واقعات میں کلیئر ہوں، عدالت چاہے تو علیحدگی میں نام بتا سکتا ہوں۔

