پاکستان

ایسے لوگ ہی بلوچستان کے دُشمن اور صوبے کو کھا گئے: چیف جسٹس غُصے میں

جنوری 3, 2024
سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے۔ فوٹو: پاکستان ٹوئنٹی فور

ایسے لوگ ہی بلوچستان کے دُشمن اور صوبے کو کھا گئے: چیف جسٹس غُصے میں

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔

بدھ کو خالد ہمایوں لانگو کی نااہلی کے خلاف اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ درخواست گزار کے گھر سے ٹرکوں کے حساب سے پیسے پکڑے گئے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خالد لانگو کے گھر سے دو ارب 24کروڑ 91لاکھ روپے برآمد ہوئے۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملزم کو صرف 26 ماہ جیسی کم سزا کیوں دی گئی؟

درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہخالد لانگو عام انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں، فیصلہ معطل کیا جائے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بلوچستان سے ایسے لوگوں کو انتخابات لڑنے سے دور رکھنا چاہیے، آپ کے موکل کو تو جیل کے دروازے کی طرف جانا چاہیے،۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بلوچستان کے پیسے مزید چوری کرنے کے لیے الیکشن لڑنا ہے؟ کس دنیا میں رہتے ہیں آپ،؟

چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ گھر سے برآمد ہونے والی ملکی اور غیر ملکی کرنسی ٹرکوں پر لاد کر لے جائی گئی، ایسے لوگ بلوچستان کے دشمن ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کی تاریخ میں کسی کو اتنی کم سزا نہیں ہوئی ہوگی،
مہربانی فرمائیں بلوچستان کے لوگوں کو بخش دیں۔

چیف جسٹس نے وکیل سے پوچھا کہ کیا نیب آپ کے موکل کے کنٹرول میں تھا جو اپیل دائر نہیں کی گئی، بلوچستان میں ایک سڑک تک نہ بن سکی، ایسے لوگ ہی بلوچستان کو کھا گئے ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا اس شخص کے اتنے زیادہ تعلقات ہیں جو نیب اپیل دائر نہیں کر رہا؟

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب کا کمال دیکھیں ٹرکوں کے حساب سے پیسے پکڑے گئے اور کم سزا کیخلاف اپیل ہی دائر نہیں ہوئی،۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو پیسہ پکڑا گیا وہ کاروبار یا جائیداد سے نہیں بنایا گیا، چھوٹے چھوٹے کیسز میں تو نیب فوری اپیل دائر کر دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کرپشن کا سہولت کار بنا ہوا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے