یہ سپریم کورٹ ہے اکھاڑہ نہیں: چیف جسٹس بمقابلہ وکیل پی ٹی آئی
سپریم کورٹ میں انتخابات کے حوالے سے پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی تاہم وکیل لطیف کھوسہ مشکل کا سامنا کرتے نظر آئے.
بدھ کو چیف جسٹس قاضی فائز نے وکیل لطیف کھوسہ سے کہا کہ بار بار ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں، جس حکم پر عملدرآمد چاہتے ہیں وہ بتائیں؟
لطیف کھوسہ نے کہا کہ کوئی ادارہ خاموش تماشائی بن کر اپنی ذمہ داریوں سے مبرا نہیں ہو سکتا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا جب الیکشن ختم ہوجائیں گے آپ پھر بتائیں گے، صرف اپنے کیس پر فوکس کریں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارے سامنے توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی ہے، ہمارے حکم کے بعد الیکشن کمیشن عملدرآمد رپورٹ بھی جمع کروا چکا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ وہ رپورٹ اُن کو نہیں ملی، کیس کی سماعت کل تک ملتوی کی جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر آپ کے کیسز نہیں چلا سکتے، سپریم کورٹ میں اور بھی کیسز ہیں۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج آپ کے لیے رات تک بیٹھنے کو تیار ہیں لیکن آپ کچھ بتائیں تو سہی۔
چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ سے کہا کہ سمجھنے کی کوشش کریں، یہ سپریم کورٹ ہے اکھاڑہ نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ انفرادی طور پر لوگوں کے خلاف کاروائی چاہتے ہیں تو الگ درخواست دائر کریں، کسی کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے ہیں تو اپیل دائر کریں۔
وکیل نے بتایا کہ اپیل کرنے کے لیے آر اور کے آرڈرز کی نقل تک نہیں مل رہی۔
جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے کتنے امیدواروں کے کاغذات نامزدگی منظور ہوئے۔
انہوں نے وکیل سے کہا کہ آپ نے لکھا سارا ڈیٹا سوشل میڈیا سے لیا۔ یہ توہین عدالت کا کیس ہے یہ کوئی نئی پیٹیشن نہیں۔
جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جو توہین کی آپ کے مطابق وہ بتائیں، الیکشن کمیشن نے آپ کو آرڈر کیا دیا؟
وکیل نے بتایا کہ ہمیں الیکشن کمیشن نے کچھ آرڈر نہیں دیا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھا کہ آپ نے اتنے لوگوں کو توہین عدالت کیس میں فریق بنایا، آپ بتائیں کس نے کیا توہین کی ہے۔
چیف جسٹس نے پوچھا کہ بتائیں آپ ہم سے چاہتے کیا ہیں، اب آپ تقریر نہ شروع کر دیجیے گا ۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آئینی اور قانونی بات بتائیں ہر کوئی یہاں آ کر سیاسی بیان شروع کر دیتا ہے، آئی جی اور چیف سیکریٹریز کا الیکشن کمیشن سے کیا تعلق ہے۔
وکیل نے کہا کہ امیدواروں کی راہ میں رکاوٹ ڈالی گئی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ثبوت کیا ہیں ہمیں کچھ دکھائیں۔
لطیف کھوسہ نے بتایا کہ ساری تفصیل درخواست میں لگائی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ توہین عدالت کیس میں آپ صرف الیکشن کمیشن کو فریق بنا سکتے تھے، آئی جی اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس بھیجا وہ کہیں گے اس کیس سے ہمارا تعلق نہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جس کے بھی کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے وہ اپیل کرے گا بات ختم۔
وکیل لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ تین دن تک آرڈر کی کاپی نہیں ملی۔اپیل کہاں کریں۔
جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ درخواست میں آپ نے لوگوں کے نام کی جگہ میجر فیملی لکھا ہوا۔
لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ میجر طاہر صادق کا ذکر ہے۔
آپ چاہتے ہیں ہم الیکشن کمیشن کا کام کریں۔چیف جسٹس
آراو کے فیصلے کی کاپی نہیں ملتی تو کاپی کے بغیر ٹرابیونل میں درخواست دیں ،چیف جسٹس
ہم کیسے دوسرے فریق کو سنیں بغیر آپ کی اپیل منظور کر لیں،چیف جسٹس
ہم کیسے کہہ دیں کہ فلاں پارٹی کے کاغذات منظور کریں اور فلاں کے مسترد؟آپ بتائیں ہم کیا آڈر پاس کریں،چیف جسٹس
عدالتیں الیکشن کیلئے ہر سیاسی جماعت کے پیچھے کھڑیں ہیں،چیف جسٹس
آپ ٹرابیونل میں اپیلیں دائر کریں اس جے بعد ہمارے پاس آئیں تو سن لیں گے،چیف جسٹس
عدالت نے الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر بلا کر پوچھا کہ ٹرابیونل میں اپیل دائر کرنے کا وقت کب تک ہے؟
آج آخری دن ہے،ڈی جی لا الیکشن کمیشن
کھوسہ صاحب ٹرابیونل جائیں پھر یہاں کیا کر رہیں ہیں،چیف جسٹس
ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایات دیں،لطیف کھوسہ
سارے آئی جیز کا اس لیے اس کیس کیس سے تعلق ہے،لطیف کھوسہ
آپ کی شکایات کی کاپی کہاں ہے،چیف جسٹس
میں نے شکایات کی کاپی ساتھ نہیں لگائی،لطیف کھوسہ
پھر الیکشن گزر جائیں گے تو کاپی لگا لیجیے گا،چیف جسٹس

