اسلام آباد میں دو بلوچ دھرنے، ہائیکورٹ نے کیا کہا؟
اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچ لاپتہ افراد کے لیے احتجاج کرنے والوں سے پولیس کے سلوک کو ملک کی بدنامی قرار دیا ہے۔
بدھ کو مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ان بچے بچیوں کا کوئی قصور نہیں، یہ پاکستانی ہیں۔
جسٹس محسن کیان کی کا کہنا تھا کہ ہم نے ان کو دیکھنا ہیں کیونکہ ہمارے سامنے کوئی لاپتہ شخص کھڑا نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ ان نو برسوں میں ایک بازیاب شہری آیا تھا جنہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے اٹھایا تھا۔
جسٹس کیانی نے کہا کہ ان معاملات میں وزیراعظم، وزارت داخلہ، وزارت دفاع ہی جوابدہ ہے۔
جسٹس کیانی نے اٹارنی جنرل سے استفسار
کیا کہ سپریم کورٹ میں آپ کا بیان حلفی جمع کرایا گیا ہے؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ نہیں بیانی حلفی ابھی جمع نہیں کیا گیا مگر جلد جمع کریں گے۔
جسٹس کیانی نے کہا کہ وزارتوں کے لوگ موجود ہیں یہ چیزیں پاکستان کی بہت بڑی بدنامی بنی ہے۔ ہم معاشی مسائل کا شکار ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔
جسٹس کیانی نے کہا کہ 12 لاپتہ افراد کی لسٹ اٹارنی جنرل کو دیں وہ دیکھیں گے۔
انہوں نے سمی دین بلوچ سے پوچھا کہ آپ نے کچھ کہنا ہے؟
سمی دین بلوچ نے کہا کہ عدالتی حکم پر وزیراعظم نے فواد حسن فواد کی سربراہی میں کمیٹی بنائی تھی۔ کمیشن نے بتایا کہ جو لوگ دس سال سے زائد عرصہ سے لاپتہ ہیں ان کا کچھ نہیں بتا سکتے۔
جسٹس کیانی کا کہنا تھا کہ ایک بات پر یقین کریں کہ جو لوگ دس سال ہو یا پندرہ سال سے ان کی معلومات حکومت فراہم کرے گی۔
اگر کوئی زندہ ہے یا مرے ہیں حکومت آپ کو معلومات فراہم کریں گی۔
سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے والدین مرتے وقت بھی اپنے لاپتہ بچوں کو یاد کرتے ہیں،
ہم اس چیز سے نکلنا چاہتے ہیں۔
سمی دین بلوچ نے بتایا کہ ابھی ایک شخص نو سال بعد بازیاب ہوا مگر ان کے گھر والوں سے کہا گیا کہ کسی سے بات نہیں کرنی۔
سمی دین بلوچ کا کہنا تھا کہ ہمیں وفاقی وزرا نے بھی کہا تھا کہ اگر آپ کے لاپتہ افراد سے متعلق بتائیں گے تو آپ شور نہیں کریں گے۔
جسٹس کیانی نے کہا کہ پہلے لاپتہ افراد کو بازیاب ہونے دیں پھر جس ادارے نے آپ سے بیان حلفی لی ہے اسی کا دیکھا جائے گا۔
عدالت نے تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او کو دونوں دھرنوں میں شریک مظاہرین کے سیکورٹی انتظامات کی ہدایت کی۔
عدالت نے کیس کی سماعت 13 فروری تک کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

