پاکستان

آپ نے فیلڈ ہی چھین لی، تحریک انصاف نے درخواست واپس لے لی

جنوری 15, 2024

آپ نے فیلڈ ہی چھین لی، تحریک انصاف نے درخواست واپس لے لی

تحریک انصاف نے سپریم کورٹ سے لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کی درخواست واپس لے لی ہے۔

پیر کو مقدمے کی سماعت کے آغاز پر پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کہا کہ آپ نے تو تحریک انصاف کی فیلڈ ہی چھین لی۔

چیف جسٹس نے جواب دیا کہ آپ نے عدالتی فیصلہ تسلیم کرنا ہے کریں نہیں کرنا نہ کریں۔
وکیل نے کہا کہ تحریک انصاف کا شیرازہ ہی بکھیر دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن صرف انتخابی نشان واپس لے سکتا ہے۔

لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ ایک جماعت کو پارلیمان سے باہر کرکے بین کیا جا رہا ہے، پی ٹی آئی کے تمام امیدوار آزاد انتخابات لڑیں گے اور کنفیوژن کا شکار ہوں گے.

جسٹس مسرت ہلالی نے پوچھا کہ کیا آپ کو لگتا ہے انتخابات شفاف نہیں ہیں؟

وکیل نے جواب دیا کہ انتخابات بالکل غیرمنصفانہ ہیں،ہم نے عدلیہ کیلئے خون دیا، قربانیاں دیں.

لطیف کھوسہ سے چیف جسٹس نے کہا کہ اب آپ ہمیں بھی بولنے کی اجازت دیں، دوسرے کیس کی بات اس کیس میں کرنا مناسب نہیں.

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن کے فیصلے کا ملبہ ہماری ذات پر نہ ڈالیں.

وکیل نے بتایا کہ ہم نے جس جماعت سے اتحاد کیا اس کے سربراہ کو اٹھا لیا گیا اور پریس کانفرنس کروائی گئی.

لطیف کھوسہ نے بتایا کہ اتحاد کرنے پر بھی اب ہم پر مقدمات بنانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں،آپ کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے لوگ آزاد انتخابات کریں گے، عدالت کے فیصلے سے جمہوریت تباہ ہو جائے گی.

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بار بار کہا تھا کہ دکھا دیں انٹرا پارٹی انتخابات کا ہونا دکھا دیں، آپ کو فیصلہ پسند نہیں تو کچھ نہیں کر سکتے.

چیف جسٹس نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ پر ہم نے حکم جاری کیا تھا،عدالت حکم دے سکتی ہے حکومت نہیں بن سکتی.

چیف جسٹس نے کہا کہ بیرسٹر گوہر کے معاملے پر پولیس اہلکار معطل ہوگئے، بیرسٹر گوہر کا کوئی ایسا رہ گیا ہے تو عدالت آ کر بتائیں.

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہمارا کام انتخابات قانون کے مطابق کروانا ہے، الیکشن کا معاملہ ہم نے اٹھایا، پی ٹی آئی کی درخواست پر بارہ دن میں تاریخ مقرر کی.

چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کہتا رہا کہ پارٹی انتخابات کرائیں لیکن نہیں کرائے گئے، کسی اور سیاسی جماعت پر اعتراض ہے تو درخواست لے آئیں.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے