ایران کا بلوچستان میں’میزائل اور ڈرون حملہ‘، پاکستان کا سنگین نتائج کا انتباہ
ایران نے منگل کو رات گئے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ’جیش العدل‘ کے ٹھکانوں کو ’میزائل اور ڈرون‘ سے نشانہ بنایا ہے۔
ایران سے ملحقہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں کیے جانے والے حملے میں دو بچیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کی جانب سے اپنے فضائی حدود کی بلا اشتعال خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے جس کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔
پنجگور کے ڈپٹی کمشنر ممتاز کھیتران کے مطابق ایسی اطلاع ملی ہے ہم معلومات اکٹھی کررہے ہیں۔
پنجگور سے تقریباً 60 کلومیٹر دور سب تحصیل کلگ میں کوہ سبز نامی گاؤں میں منگل کو مغرب کے وقت ایک مسجد اور اس سے ملحقہ گھروں کو میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ چار میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں مسجد اور گھروں کو نقصان پہنچا اور اس میں ادریس نامی شخص کی دو بچیوں کی موت ہوگئی ہے جن کی عمریں آٹھ اور بارہ سال تھیں۔
حملے میں خاتون اور بچوں سمیت چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن کی شناخت مریم زوجہ ادریس، رقیہ، عاصمہ اور عائشہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ زخمیوں کو سول ہسپتال پنجگور منتقل کیا جارہا ہے۔
سبز کوہ جیش العدل کے سیکنڈ ان کمانڈ ملا ہاشم کا علاقہ ہے جو 2018 میں پنجگور سے ملحقہ ایرانی علاقے سراوان میں ایرانی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا۔
ایک انتظامی افسر کے مطابق یہ علاقہ پاک ایران چیدگی سرحد سے پاکستان کے تقریباً چالیس سے 50 کلومیٹر اندر واقع ہے ۔ منگل کو عصر اور مغرب کے وقت اس علاقے میں ایرانی طیارے کی پرواز کرتے ہوئے آواز سنی گئیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کی خومختاری کی یہ خلاف ورزی مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اسے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔‘
’ایسے یکطرفہ اقدامات اچھے بردرانہ تعلقات کے لیے نقصاندہ ہے اور دو طرفہ اعتماد اور بھروسے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اس سے زیادہ تشویشناک بات ہے کہ یہ غیرقانوی اقدام اس کے باوجود ہوا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان کمیونیکیشن کے کئی چینلز موجود ہیں۔‘
ترجمان کے مطابق پاکستان نے پہلے ہی تہران میں ایران کے وزارت خارجہ میں اس معاملے پر شدید احتجاج ریکارڈ کیا ہے۔

