پاکستان

توشہ خانہ، عمران خان اب بھی ریاستی تحائف واپس کر سکتے ہیں: ہائیکورٹ

جنوری 18, 2024

توشہ خانہ، عمران خان اب بھی ریاستی تحائف واپس کر سکتے ہیں: ہائیکورٹ

توشہ خانہ ریفرنس کے خلاف ہائیکورٹ میں عمران خان کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہے کہ ریاست کو ملنے والے تحائف کو اب بھی واپس کیا جا سکتا ہے۔

جمعرات کو عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کرنے والے جج صاحب کو کہا بھی تھا کہ اُن کی تعیناتی درست نہیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جج تعیناتی کے لیے آپ دوسری درخواست لے آئیں فی الحال جیل ٹرائل تک ہی رہے.

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ کیا آپ نے جج کی تعیناتی کے خلاف درخواست دی تھی؟

وکیل نے جواب دیا کہ جی بالکل ہم نے جج احتساب عدالت کے سامنے ان کی تعیناتی کے حوالے سے درخواست دی تھی، جو مسترد ہوئی.

لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ توشہ خانہ میں صرف عمران خان نے نہیں سب نے گفٹس لیے ہیں.

جسٹس اورنگزیب نے کہا کہ یہ تمام تحائف ریاست کے ہیں اور یہ ریاست کو واپس ہونا چاہییں.

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پوچھا کہ کیا اس کیس میں سیکرٹری کابینہ ملزم ہے؟

وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سیکرٹری کابینہ کا اس پورے ریفرنس میں کہیں بھی نام نہیں ہے.

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آپ یہ اقدام اٹھائے اور ریاست کے تحائف واپس کریں.

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ کیا سیل لگی ہوئی جو 50 فیصد یا 20 فیصد ڈسکاؤنٹ پر چیزیں لے رہے ہیں.

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے عمران خان کے وکیل سے کہا کہ ہم نے آپ کا کیس سن کیا ، اس سے متعلق ہم فیصلہ کرتے ہیں.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے