پاکستان

پاکستان میں انٹرنیٹ سپیڈ کا مسئلہ، پارلیمنٹ میں کس نے کیا کہا؟

دسمبر 5, 2024 3 min

پاکستان میں انٹرنیٹ سپیڈ کا مسئلہ، پارلیمنٹ میں کس نے کیا کہا؟

Reading Time: 3 minutes

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی سپیڈ کو کم کرنے سے کی کوئی پالیسی نہیں، اگر کوئی پالیسی ہے تو حکومت سے پوچھا جائے۔

پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی انڈسٹری کی ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین سجاد سید نے سینیٹ کی کمیٹی برائے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ انٹرنیٹ میں تعطل کے باعث ملک میں آن لائن کام کرنے والے سیکٹر کو روزانہ ایک ارب 30 کروڑ روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

تحریک انصاف کے سینیٹر ہمایوں مہمند نے کمیٹی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ کی بندش کا پتہ سب کو ہے مگر بول کوئی نہیں رہا کیونکہ شارک ہے۔

آئی ٹی کی وزیر مملکت شزہ فاطمہ نے کمیٹی کو بتایا کہ پیکا قانون میں ترامیم زیرِغور ہیں کیونکہ فیک نیوز کو روکنا ہے۔

سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ یہ کوئی نہیں بتائے گا انٹرنیٹ کی سپیڈ کو کم کرنے کی اصل وجہ پی ٹی آئی کو روکنا ہے، حکومت صرف پی ٹی آئی کے خلاف یہ اقدام اٹھا رہی ہے۔

سینیٹر انوشے رحمان نے کہا کہ آپ کیسے وی پی این بند کرنے کی ہدایت کر سکتے ہیں، پہلے آپ وی پی این کوغلط ثابت کریں پھر اسے بند کریں۔

سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ کروڑوں صارفین متاثر ہورہے ہیں اس کا حل نکالنا ہوگا۔ آپ پیکا قانون کے تحت ٹیکنالوجی بند نہیں کر سکتے، کسی سوشل ٹول کو بند نہیں کر سکتے۔ اٹارنی جنرل کوکمیٹی میں آنا چاہیے تھا۔

جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے پاشا کے چیئرمین نے بتایا کہ آئی ٹی انڈسٹری 30 فیصد کی شرح سے گروتھ کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تمام ممالک وی پی اینز کو مانیٹر کرتے ہیں۔ پاشا نے وی پی این سروس پروائیڈرز کی تجویز دی ہے، حکومت کو تجویز دی وی پی اینز کو مقامی سطح پر رجسٹرڈ کرے۔‘

کمیٹی کی چیئرپرسن پلوشہ خان نے پوچھا کہ انٹرنیٹ کو کتنا سلو کیا گیا ہے؟

سجاد سید نے بتایا کہ ’موجودہ صورتحال میں 99 فیصد آئی ٹی کمپنیوں نے خلل کی نشاندہی کی، پاشا نے وزارت آئی ٹی کے ساتھ انٹرنیٹ میں خلل کا معاملہ اٹھایا۔ پی ٹی اے نے آئی ٹی انڈسٹری کے خدشات دور کرنے کے لیے سیل بنایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’فری وی پی اینز سے ڈیٹا سکیورٹی کے خطرات لاحق ہیں، انٹرنیٹ آئی ٹی انڈسٹری کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔‘

سینیٹر انوشے رحمان نے پوچھا کہ وی پی این رجسٹریشن سے انٹرنیٹ پر کیوں اثر ہو رہا ہے؟

انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے سیکریٹری نے بتایا کہ نیشنل سکیورٹی کو درپیش خطرے کی صورتحال میں انٹرنیٹ سروس بند کرتے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضٰی نے سوال کیا کہ یہ نیشنل سکیورٹی صرف پاکستان کا مسئلہ ہے، اس وجہ سے انڈیا میں انٹرنیٹ بند کیوں نہیں کیا جاتا؟َ

سینیٹر انوشے رحمان کا کہنا تھا کہ سنہ 2013 سے 2018 کے دوران جب وہ وزیر تھیں تب بھی وین پی این رجسٹرڈ کیے مگر اُس وقت انٹرنیٹ کا کوئی مسئلہ درپیش نہ آیا۔ ’اس وقت بھی ہم نے وائٹ لسٹنگ کی اور گرے ٹریفک کو روکنے کے اقدامات کیے لیکن انٹرنیٹ متاثرنہیں ہوا۔‘

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)ٰ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ پہلا وی پی این دسمبر2010 میں رجسٹرڈ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا۔ ’ہم اب تک تیس یزار وی ہی این رجسٹرڈ کر چکے، جنوری 2025 سے وی پی این کے لائسنس جاری کرنا شروع کریں گے۔‘

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پہلے انٹرنیٹ نو، دس محرم کو بند ہوتا تھا اب ہر دن نو، دس محرم ہے۔ سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ انٹرنیٹ فائروال کی وجہ سے سست ہو سکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے سینیٹر مہمند خان نے طنزیہ کہا کہ ’انٹرنیٹ پی ٹی آئی کے دہشتگردوں کی وجہ سے بند کیا گیا۔‘

پاشا کے چیئرمین نے کہا کہ اس ہفتے انٹرنیٹ کی رفتار میں کچھ بہتری آئی ہے، عمومی طور پر انٹرنیٹ سلو ہوا ہے۔ انٹرنیٹ چلتا ہے تو ٹھیک چلتا ہے اور پھر اچانک بند ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال میں کمرشل کام نہیں ہو سکتا۔؎

انہوں نے بتایا کہ سٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹ 3.2 بلین ڈالر ہے۔ 30 لاکھ گھر آئی ٹی اور اس کی ایکسپورٹس پر منحصر ہیں۔ مستقل پالیسیوں اور مستحکم انفراسٹرکچر کے ساتھ 2030 تک ایکسپورٹس 15 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔

ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے مطابق پاکستان نے انٹرنیٹ کی آزادی میں 100 میں سے 27 نمبر حاصل کیے ہیں جبکہ انڈیا نے انٹرنیٹ آزادی میں 50 نمبر حاصل کیے ہیں۔

سجاد سید نے کہا کہ ایک گھنٹہ انٹرنیٹ بندش سے 9 لاکھ دس ہزار ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے