’شارک سب میرین کیبل نہیں کھا سکتی‘، جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان
انٹرنیٹ کی سست روی اور بندش کے حوالے سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ سب میرین کیبل کے کٹنے کی وجہ شارک نہیں ہے کیونکہ وہ سب میرین کیبل کو نہیں کھا سکتی۔
بدھ کو سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل ریٹائرڈ حفیظ الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کی بندش وزارت داخلہ کی ہدایات پر کی جاتی ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے کے مطابق ’پاکستان میں اس وقت سات سب میرین کیبلز آ رہی ہیں۔ ہم نے حال ہی میں ’2 افریقہ سب میرین کیبل‘ تک بھی رسائی ممکن بنائی ہے جو اسی سال فعال ہو جائے گی۔ زیادہ سب میرین کیبلز تک رسائی ہونے سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی فراہمی میں بہتری آئے گی۔‘
اُنہوں نے قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ ’پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا مواد پر تقریباً 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کی درخواست کی جاتی ہے۔ ہماری درخواست پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز 80 فیصد مواد بلاک کر دیتے ہیں، تاہم سوشل میڈیا ایپلی کیشنز پر ایسا 20 فیصد مواد موجود رہتا ہے۔‘
اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ نے چیئرمین پی ٹی اے اور وزارت آئی ٹی کے حکام سے استفسار کیا کہ ’آپ کو یہ اختیار کہاں سے حاصل ہوا کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کر سکیں؟ ایکٹ میں کہاں لکھا ہوا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ضروری ہے؟‘
جس کے جواب میں وزارت آئی ٹی کے اہلکار نے بتایا کہ انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کی بندش کے ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ یا ایپلی کیشنز بند کرنے کی کوئی واضح بات نہیں کی گئی ہے۔
چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ رولز میں بس یہ لکھا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو ہدایت دے سکتا ہے، جس کی روشنی میں انٹرنیٹ یا سوشل میڈیا ایپلی کیشن بند کیے جاتے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے چیئرمین پی ٹی اے سے پوچھا کہ اگر قانون میں کوئی ایسی بات نہیں لکھی تو آپ مخصوص علاقوں میں انٹرنیٹ کیسے بند کرسکتے ہیں؟
چیئرمین پی ٹی اے نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ ’اگر اس طرح انٹرنیٹ بند کرنا غلط ہے تو حکومت گزشتہ 9 سال سے انٹرنیٹ کیوں بند کروا رہی ہے۔ میں تاریخ اور وقت بتا سکتا ہوں کہ کب اور کہاں انٹرنیٹ بند ہوا۔‘

