ڈونلڈ ٹرمپ کا اپنے 1500 کارکنوں کے لیے صدارتی معافی کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے چند گھنٹوں بعد ہی واشنگٹن میں کیپیٹل ہل پر حملے میں ملوث اپنے 1500 سے زائد کارکنوں کے لیے معافی کا اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد دائیں بازو کی تنظیمیں ’پراؤڈ باؤز‘ اور ’اوتھ کیپرز‘ کے 14 ممبران کو سنائی گئی سزاؤں میں بھی کمی آئے گی۔ ان میں وہ ممبران بھی شامل ہیں جن کو بغاوت کی سازش کا مرتکب ٹھہرایا گیا تھا۔
بغاوت کی سازش کے جرم میں پراؤڈ بوائز تنظیم کے سابق سربراہ انریکی ٹاریو کو 22 سال قید جبکہ اوتھ کیپرز کے سربراہ سٹیورٹ بروڈز کو 18 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
معافی کے اعلان کے تحت امریکی اٹارنی جنرل کو 6 جنوری کے فسادات سے متعلق تمام زیر التوا کیسز کو ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
معافی کے اعلان کے تحت امریکی اٹارنی جنرل کو 6 جنوری کے فسادات سے متعلق تمام زیر التوا کیسز کو ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں تقریب کے دوران کہا کہ ’امید ہے کہ وہ آج رات کو ہی (جیل سے) باہر آ جائیں گے۔‘
امریکی صدر نے فسادیوں کو ’یرغمالیوں‘ کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 1500 سے زائد افراد کو ’مکمل معافی‘ دے دی ہی۔
سال 2021 کے انتخابات میں جو بائیڈن کی فتح کی باقاعدہ توثیق کے عمل کو روکنے کی کوشش کے سلسلے میں کیپیٹل ہل پر دھاوا بولنے والے ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک ہزار 583 حامیوں پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

