مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکہ، مولانا حامدالحق سمیت 5 ہلاک
پاکستان میں افغان طالبان کے حوالے سے مشہور ہونے والے مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکہ ہو اہے جس میں نائب مہتم سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
مدرسہ حقانیہ پشاور سے 50 کلومیٹر مشرق میں جی ٹی روڈ پر ضلع نوشہرہ میں واقع ہے۔
خبیر پختونخوا پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ مولانا حامد الحق ہی خودکش حملہ آور کا نشانہ تھے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے دھماکہ میں اُن کے شدید ہونے کے بعد موت کی تصدیق کی ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق دھماکہ میں 29 نمازی زخمی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اُس وقت ہوا جب جمعے کی نماز کی بعد ایک شخص مولانا حامد الحق کے قریب آیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق جمعے کو حقانیہ مدرسہ اکوڑہ خٹک میں دھماکے کی اطلاع ریسکیو کنٹرول روم کو موصول ہوئی جس کے بعد آگ بجھانے والا عملہ موقع پر پہنچ گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں دھماکے کی شدید مذمت کی اور انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور نے متعلقہ حکام کو واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر مکمل رپورٹ پیش کرنے کا کہا ہے۔

