طورخم بارڈر پر افغانستان اور پاکستانی فورسز میں فائرنگ کا تبادلہ
پاکستانی اور افغان فورسز نے شمال مغربی سرحدی گزرگاہ پر رات بھر فائرنگ کا تبادلہ کیا جو دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان تنازعے کے باعث ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بند ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکام نے پیر کو بتایا کہ طورخم کراسنگ کے دونوں جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
یہ بارڈر کراسنگ پاکستان نے لگ بھگ دو ہفتے قبل اُس وقت بند کی جب افغانستان نے اپنی طرف وہاں نئی سرحدی چوکی کی تعمیر شروع کی۔
دونوں ممالک ماضی میں ہلاکت خیز فائرنگ اور کراس فائرنگ پر کئی بار طورخم اور جنوب مغربی چمن بارڈر کراسنگ کو بند کر چکے ہیں، ۔ یہ کراسنگ پاکستان اور سمندر سے دور افغانستان کے درمیان تجارت اور سفر کے لیے بہت اہم راستہ ہے۔
ایک پاکستانی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان کی سکیورٹی فورسز نے پیر کی صبح بغیر کسی اشتعال کے فائرنگ کی، جس میں خودکار ہتھیاروں سے پاکستان کی سرحدی چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔
اہلکار نے بتایا کہ پاکستانی اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کی۔
کابل میں طالبان حکومت کی جانب سے تبادلے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔
افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں ایک مقامی اہلکار نے پاکستانیوں پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سرحدی پولیس پر حملہ کیا جو افغان علاقے میں تعمیرات میں مصروف تھے۔
اہلکار نے مزید کہا کہ پاکستانی جانب سے ’اشتعال انگیز کارروائیوں‘ نے سرحد کو دوبارہ کھولنے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بھی بات کی کیونکہ وہ میڈیا سے بات کرنے کے مجاز نہیں تھے۔
طورخم کراسنگ کے دونوں اطراف ہزاروں ٹرک اور گاڑیاں پھنس کر رہ گئیں جن میں موجود لوگ سخت سردی کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔

