عالمی خبریں

برٹش ایئرویز سمیت متعدد بڑی فضائی کمپنیوں کی اسرائیل کے لیے پروازیں معطل

مئی 4, 2025

برٹش ایئرویز سمیت متعدد بڑی فضائی کمپنیوں کی اسرائیل کے لیے پروازیں معطل

برٹش ایئرویز، لفتھانسا، ایئر انڈیا سمیت متعدد بڑی عالمی فضائی کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔

یہ فیصلہ اتوار کو اُس وقت کیا گیا جب یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے میزائل نے اسرائیل کے تل ابیب کے مرکزی ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یمن سے داغے گئے میزائل کو روکنے کی ’کئی کوششیں کی گئیں۔‘

یہ ایک غیرمعمولی حملہ تھا جس نےاسرائیل کے فضائی دفاعی نظام سے ہو کر ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں افسران کو ایک گہرے گڑھے کے کنارے کھڑے دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ پس منظر میں کنٹرول ٹاور بھی نظر آ رہا ہے۔ ہوائی اڈے کی عمارتوں یا رن وے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

پولیس نے اسرائیل کے مرکزی بین الاقوامی گیٹ وے بین گوریان ایئرپورٹ پر ’میزائل گرنے‘ کی تصدیق کی۔

اے ایف پی کے ایک فوٹوگرافر کے مطابق میزائل ٹرمینل 3 کے پارکنگ لاٹس کے قریب گرا، جو کہ ہوائی اڈے کا سب سے بڑا ٹرمینل ہے، اور گڑھا قریبی ٹارمک سے ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر تھا۔

وسطی اسرائیل کے پولیس چیف، یائر حضرونی نے ویڈیو میں کہا کہ ’آپ ہمارے پیچھے کا علاقہ دیکھ سکتے ہیں، یہاں ایک گڑھا بنا ہے جو کئی درجن میٹر چوڑا اور گہرا ہے۔‘

فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ گڑھا یمنی میزائل سے بنا یا کسی انٹرسیپٹر کے ٹکرانے سے۔

حوثیوں کے بیان کے مطابق ’یمنی مسلح افواج کی میزائل فورس نے ایک فوجی کارروائی کرتے ہوئے بین گوریان ایئرپورٹ کو ہائپرسونک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔‘

اسرائیلی ہنگامی سروس نے بتایا کہ کم از کم چھ افراد کو معمولی سے درمیانے درجے کی چوٹیں آئیں۔

اے ایف پی کے ایک صحافی، جو حملے کے وقت ہوائی اڈے کے اندر موجود تھے، نے بتایا کہ صبح 9:35 بجے کے قریب ایک زور دار دھماکہ سنا، جس کی گونج بہت شدید تھی۔

صحافی کے مطابق ’سکیورٹی اہلکاروں نے فوراً سینکڑوں مسافروں کو پناہ لینے کو کہا، کچھ کو بنکرز میں لے جایا گیا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے