صدر ٹرمپ اور ایلون مسک کا بریک اَپ، واشنگٹن دم بخود
شاید یہ ہمیشہ اسی طرح ختم ہونے والا تھا، دو ارب پتی غصے سے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے بارے میں پوسٹ کر رہے ہیں، اور کروڑوں صارفین کی انگلیاں فون کی سکرینوں پر کھیل رہی ہیں کیونکہ ان کا جھگڑا لمحہ بہ لمحہ گرم ہوتا جا رہا ہے۔
کوئی حتمی پیشین گوئی کے قابل نہیں مگر یہ کم چونکانے والا نہیں۔
مہینوں کے بعد جب ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک واشنگٹن کو ریمیک کرنے کے اپنے افراتفری کے ساتھ مشن میں متحد نظر آئے تو اس ہفتے ان کے تعلقات ایسے ٹوٹے جیسے کوئی ستارہ گر کر دُمدار بن جاتا اور روشنی اڑاتا جاتا ہے۔
اس کا آغاز مسک نے ٹرمپ کے قانون سازی کے ایجنڈے کے مرکز کے بارے میں شکایت کرنے کے ساتھ کیا۔
آخرکار ٹرمپ نے اس بات کو کہہ دیا کہ وہ اپنے سابق مشیر سے مایوس تھے، جس پر ایلون مسک نے امریکی صدر کو طعنوں اور طنز کے سیلاب میں بہانے کے لیے اپنے سوشل میڈیا ایکس کا سہارا لیا۔
ایلون مسک کی ہر پوسٹ چند منٹوں میں کروڑوں لوگوں تک پہنچی۔
ایلون مسک نے صدر ٹرمپ پر وفاقی اخراجات میں کمی کے اپنے وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام لگایا، اور ایک تجویز دی کہ صدر کا مواخذہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے بغیر ثبوت کے دعویٰ کیا کہ حکومت بدنام زمانہ پیڈو فائل جیفری ایپسٹین کے ساتھ صدر ٹرمپ کی وابستگی کے بارے میں معلومات چھپا رہی ہے۔
اور شاید سب سے بڑی شرارت یہ تھی ایلون مسک نے اصرار کیا کہ ٹرمپ ان کی مدد کے بغیر پچھلے سال صدارتی الیکشن نہیں جیت سکتے تھے۔
اب صدر ٹرمپ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگا رہے ہیں اور مسک جوابی طور پر اپنے خلائی مشن محدود کرنے کا اعلان کر رہے ہیں۔

