بارشوں اور سیلاب کے باعث پاکستان میں چار دن میں 53 اموات کی تصدیق
ثوبان افتخار راجہ
پاکستان میں آفات سے نمٹنے کے قومی محکمے کہا ہے کہ مون سون کے موسم کے آغاز کے بعد سے صرف چند دنوں میں ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے 53 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اتوار کو بتایا کہ صرف سنیچر کو صوبہ پنجاب میں آٹھ افراد بارش سے جڑے مختلف حادثات میں زندگی ہار گئے، جس سے صوبے میں گزشتہ چار دنوں میں اموات کی تعداد 21 تک پہنچ گئی ہے۔
مرنے والوں میں 8 بچے اور چار خواتین بھی شامل ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ لگ بھگ اتنی ہی ہلاکتیں افغانستان کی سرحد سے متصل صوبہ خیبر پختونخوا میں ریکارڈ کی گئیں جہاں 21 ہلاک ہونے والوں میں 10 بچے شامل ہیں۔
ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے کہا کہ مرنے والوں میں سے 14 وادی سوات میں ہلاک ہوئے، جہاں میڈیا نے رپورٹ کیا کہ سیلابی پانی دریا کے کنارے پر موجود خاندانوں کو بہا لے گیا۔
پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب میں بدھ سے اب تک 21 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
ان میں سے آٹھ ایسے بچے تھے جو شدید بارش کے دوران دیواریں یا چھتیں گرنے سے مر گئے، جبکہ بڑے سیلاب میں ہلاک ہوئے۔
سندھ اور بلوچستان صوبوں میں مون سون بارشوں کے باعث گیارہ اموات ریکارڈ کی گئیں۔
قومی موسمیاتی محکمے نے خبردار کیا ہے کہ کم از کم ہفتہ تک شدید بارش اور ممکنہ سیلاب کا خطرہ زیادہ رہے گا۔
پچھلے مہینے پاکستان میں شدید طوفانوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پاکستان نے موسم بہار میں آندھی، ژالہ باری سمیت کئی شدید موسمی واقعات کا سامنا کیا۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے، اور اس کی 24 کروڑ آبادی کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے ساتھ انتہائی سخت موسمی واقعات کا سامنا ہے۔

