وادی تیراہ میں فائرنگ سے شہریوں کی اموات، مقامی کمانڈر کا قبائلی عمائدین سے جرگہ
خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہریوں کی ہلاکت کے بعد مقامی عمائدین اور کمانڈر نے جرگے میں واقعے کی تحقیقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
اتوار کی دوپہر علاقے سے بے امنی کی خبریں آئیں اور فائرنگ کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر وائرل ہوئیں۔
علاقے سے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے احتجاجی ریلی سے خطاب میں فائرنگ کا الزام سکیورٹی فورسز پر عائد کیا۔
مقامی باشندوں کے مطابق اتوار کی صبح ایک شہری کے گھر پر مارٹر گولہ گرنے سے معصوم بچی کی موت کے بعد علاقے میں احتجاج شروع ہوا۔
ضلعی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے مقامی شہریوں پر فائرنگ سے پانچ افراد کی موت کی تصدیق کی ہے جبکہ متعدد زخمی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور کئی دیگر حکومتی عہدیداروں کے بیانات میں فائرنگ کے واقعے کو خوارج سے منسوب کیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا پر صوبے بھر کے شہری سخت صدمے اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے سرکاری حکام پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
مقامی صحافیوں کے مطابق فائرنگ سے 10 سالہ بچی سمیت 5 افراد کی موت ہوئی اور 17 زخمی ہوئے۔ ’واقعے کے بعد تیراہ بریگیڈ ہیڈ کوارٹر کے سامنے متاثرہ خاندانوں اور مقامی افراد نے احتجاج کیا۔‘
بتایا گیا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر سکیورٹی حکام اور قبائلی عمائدین کے درمیان جرگہ ہوا جس کی سربراہی بریگیڈیئر عمران ارشد نے کی۔
جرگہ میں قبائلی عمائدین نے پانچ مطالبات پیش کیے جن میں بچی کے قتل میں ملوث اہلکاروں پر ایف آئی آر کا اندراج، مقامی شہریوں کے گھروں سے سکیورٹی فورسز کے قبضے کا خاتمہ، ڈرون کے استعمال پر پابندی، چیک پوسٹوں پر ہراسانی بند اور مرنے والے افراد کے لواحقین کو مالی امداد دینا شامل ہے۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ چند مطالبات منظور ہونے پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا جبکہ سکیورٹی فورسز نے وعدہ کیا کہ واقعے کی مکمل و شفاف انکوائری کی جائے گی۔
مقامی قبائل کے عمائدین نے کہا کہ علاقے سے نقل مکانی نہیں ہو گی، عوام کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
وادی تیراہ میں ’فائرنگ سے اموات‘ پر وزیراعلٰی خیبر پختونخوا کے دفتر سے جاری کیے بیان میں کہا گیا کہ علی امین گنڈاپور اور خیبر پختونخوا حکومت نے تیراہ واقعے پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین اور زخمی ہونے والوں کے ساتھ مکمل ہمدردی ظاہر کی ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعلٰٰی نے قبائلی مشران اور عوامی نمائندوں پر مشتمل جرگہ پشاور طلب کیا ہے تاکہ مقامی جذبات و تحفظات کو سنا جا سکے۔
’ضلعی انتظامیہ اور اداروں کو عوامی رابطے مضبوط بنانے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ اور زخمیوں کے لیے 25 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا۔‘

