پاکستان

اوکاڑہ ملٹری فارمز سے مشہور رہنما مہر عبدالستار پر توہین مذہب کا مقدمہ درج

جولائی 28, 2025

اوکاڑہ ملٹری فارمز سے مشہور رہنما مہر عبدالستار پر توہین مذہب کا مقدمہ درج

دہشت گردی سمیت 36 مقدمات کا سامنا کرنے اور چار سال تک جیل کاٹنے کے بعد بری کیے گئے اوکاڑہ کے کسان رہنما مہر عبدالستار پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اتوار کو اوکاڑہ کے تھانہ صدر میں درج کیے گئے مقدمے کے مطابق مہر عبدالستار نے بطور تحریک انصاف کے رہنما ایک مسجد میں سیاسی تقریر کر کے تقدس پامال کیا اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال سے بھی قانون کی خلاف ورزی کی۔

اُن کے ساتھ 14 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 دیگر کو نامعلوم لکھا گیا ہے۔

مہر عبدالستار کے خلاف مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 لگائی گئی ہے اور لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے صوبائی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مہر عبدالستار نے طویل عرصہ جیل کاٹی ہے۔

وہ اوکاڑہ کے ملٹری فارمز کی زمین پر مزارعین کے حقوق کے لیے سرگرم رہے اور جنرل سیکرٹری انجمن مزارعین پنجاب تھے۔

اُن کو سنہ 2020 میں لاہور ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے ان پر لگائے مختلف مقدمات میں سے آخری مقدمے میں بھی بری کیا تھا اور انھیں بالآخر چار سال کے بعد رہائی مل گئی تھی۔

مہر عبدالستار کے ساتھ قیدی عبدالغفور کو بھی ان کے ساتھ بری کر دیا گیا تھا۔

مہر عبدالستار کے وکیل ملک ظفر نے بتایا تھا کہ ‘مہر ستار کے خلاف درج مقدمات کی ٹائم لائن نہیں سمجھ آئی اور نہ ہی ان مقدمات کے بارے میں حکام کی جانب سے کوئی ٹھوس ثبوت عدالت میں پیش کیے گئے۔’

مہر عبدالستار کی گرفتاری اپریل 2016 میں کی گئی جس کے بعد ان پر ساہیوال کی عدالت میں دہشت گردی کا مقدمہ چلا اور دو سال بعد انھیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی جس کے بعد انھیں ہائی سکیورٹی جیل میں رکھا گیا۔

مہر عبدالستار پر الزام تھا کہ انھوں نے روڈ بلاک کے دوران پولیس اہلکار پر فائرنگ کی تھی۔ سنہ 2001 سے لے کر 2016 تک ان کے خلاف 36 مقدمات درج کیے گئے تھے۔

ان میں سے دو کے سوا باقی تمام مقدمات میں ان کی ضمانت منظور کی جا چکی تھی۔
ان چار سالوں کے دوران ان کے وکلا میں سینئر ایڈوکیٹس جیسے مرحومہ عاصمہ جہانگیر، مرحوم زاہد بخاری، عابد ساقی اور کئی دیگر وکلا شامل تھے۔

اس سے قبل سنہ 2019 میں نیشنل کمیشن آف ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) نے اوکاڑہ ملٹری فارمز پر حتمی نتائج کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک بورڈ آف ریوینیو (بی او آر) کے ذریعے اوکاڑہ مزارعین کو اپنی زمینوں کی ملکیت نہیں مل جاتی تب تک ان کو پاکستان کی فوج کو گندم کا حصہ یعنی بٹائی دینا ہوگی۔

حکم نامے کے مطابق اوکاڑہ مزارعین کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف جو فوجداری مقدمے قائم کیے گئے ہیں وہ واپس لیے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی بھی کرائی جائے گی کہ اس طرح کے مقدمات انسدادِ دہشت گردی عدالت کے تحت نہیں چلائے جائیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے