وہ مزدور کھلاڑی جس نے 43 برس کی عمر میں انڈیا کے خلاف شاندار اننگز کھیلی
جب شائقین نے سٹیڈیم میں کھڑے ہو کر اُن کو داد دی تو اُس لمحے نے عامر کلیم کے طویل سفر کو قابل قدر بنا دیا۔ 43 سال کی عمر میں عامر کلیم نے کرکٹ کھیلنا چھوڑ دیا اور کوچنگ کے شعبے کا رخ کیا مگر اُن کی میدان میں بطور کھلاڑی واپسی ہوئی۔
ابوظہبی میں انڈیا کے خلاف جمعے کی رات عامر کلیم نے دکھایا کہ ان میں اب بھی کچھ کرکٹ باقی ہے۔
گزشتہ برس اکتوبر میں عامر کلیم کے کھیلنے کے دن ختم ہو رہے تھے۔ وہ 42 سال کے تھے، اور انہوں نے کوچ کی حیثیت سے اپنے اندر کی آواز کو سُنا کیونکہ چند ماہ قبل ہی تھائی لینڈ میں انڈر 19 ورلڈ کپ ڈویژن 2 ایشیا کوالیفائرز میں بطور کوچ عمان کو ٹائٹل جتوایا تھا۔
مگر پھر اچانک ایک غیرمعمولی واقعہ ہوا۔ مسقط میں ایمرجنگ ایشیا کپ میں ان کی بطور کوچ شرکت سے چند گھنٹے قبل ٹیم کے 11 سرفہرست کھلاڑیوں کے دستے نے بورڈ سے تنازعے پر کھیل سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا۔
عامر کلیم کو مسقط میں عمان کرکٹ کے ہیڈ کوارٹر میں بلایا گیا۔ ان 11 کھلاڑیوں میں اس وقت کے کپتان عاقب الیاس اور سابق کپتان ذیشان مقصود شامل تھے۔
یہ ان کھلاڑیوں کا گزشتہ برس جون میں امریکہ اور کیریبین میں ہونے والے ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کی انعامی رقم کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج تھا۔
اس بحران نے عمان کے پہلے سے ہی کمزور سی کرکٹ ٹیم کو ختم کرنے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ ان حالات میں عامر کلیم نے میدان میں بطور کھلاڑی واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
جمعے کو ایشیا کپ میں، عامر کلیم، جو اب 43 سال کے ہیں، ابوظہبی کے زید کرکٹ سٹیڈیم میں شائقین نے اُن کو کھڑے ہو کر داد دی جب وہ میدان سے باہر جا رہے تھے۔
انہوں نے اس عمر میں انڈیا جیسی نمبر ون ٹی20 ٹیم کے خلاف ہدف کے تعاقب میں شاندار کھیل پیش کیا۔
اومان کے جیت کے لیے 189 رنز کے ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ آرڈر کے اوپری حصے میں ان کی 46 گیندوں پر 64 رنز اننگز کسی سینچری کی طرح دیکھی گئی۔ اور انہوں نے یقینی طور پر اس لمحے کو اسی انداز میں منایا۔
عامر کلیم نے میدان میں پٹھوں کے کھچاؤ، جسم میں پانی کی کمی کا مقابلہ کیا، اور ایک اُٹھتی ہوئی گیند کو ہیلمٹ کے سرے پر لگنے والے دھچکے سے سنبھلے۔ اُن کے گھٹنوں کے جوڑ پہلے سے ہی کچھ ٹیڑھ پن کا شکار تھے۔ لیکن وہ جیت کے لیے کوشش کرتے رہے اور عمان کی ٹیم کو میچ میں ایک زبردست جگہ پر لانے کے عزم نے اُن کو کھڑا رکھا۔
شاید یہ وہی عزم تھا جو ایک اچھی زندگی کی خواہش میں عامر کلیم کو سنہ 2004 میں کراچی سے عمان لے آیا تھا، جب انہوں نے میٹرس (فوم کے گدے بنانے والی) ایک کمپنی میں ڈیلیوری اسپیشلسٹ کی ملازمت اختیار کی۔ وہ مسقط کی سخت گرمی میں شپمنٹس کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ کرتے جس سے اُن کی جلد پر چھالے پڑ جاتے۔
تبدیلی کچھ برس بعد اس وقت آئی جب اس نے "Passage to India” نامی ایک ریستوران میں سکون والی نوکری شروع کی، جس کا مالک کرکٹ کا شوقین تھا اور کلب کی ٹیم چلاتا تھا۔
جب عامر کلیم نے اسے اپنے جنون کے بارے میں بتایا تو، کے کے موہن داس، جو کلب چلاتے تھے، انہوں نے عامر کی کرکٹ کی کٹ کو سپانسر کیا، اور اس کے کپڑوں اور کام کی چھٹیوں کا خیال رکھا تاکہ اس کی اپنے شوق کی پیروی کرنے میں مدد کی جا سکے۔
سنہ 2012 میں عامر کلیم نے عمان کی قومی ٹیم کے لیے کرکٹ ڈیبیو کیا۔
تیرہ سال بعد امارات کے میدانوں میں عامر کلیم اپنے کپتان جتندر سنگھ کے ساتھ ناممکن کو ممکن کر دینے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ ساری راتیں جو اُنہوں نے گمنامی میں گزاریں، ان کے دفاتر اور کلب کرکٹ میں ایک دوسرے سے رقابت کے درمیان، ان کو اُسی کرکٹ سے انعام کی تھوڑی سی توقع تھی۔
تین ہفتے قبل عمان کے ڈومیسٹک ٹی20 فائنل میں عامر کلیم پلیئر آف دی ٹورنامنٹ تھے۔ وہ جمعے کے روز یہاں اپنی زندگی کی یادگار اننگز کھیل رہا تھے – جب انہوں نے انڈین بولر ہاردک پانڈیا کو مارا، ہرشیت رانا کی گیندوں کو باؤنڈری سے باہر پھینکا، کلدیپ یادو کو سویپ کیا، شیوم دوبے کی گیندوں کو اپنے بلے سے نشانہ بنایا – جس کی جھلکیاں اب اُس کے ذہن سے مٹائے جانے کا امکان نہیں۔
جیسے ہی اس نے 38 گیندوں پر اپنی نصف سینچری مکمل کی، اس نے اپنا ہیلمٹ اتارا، اپنے بلے کو گراؤنڈ کے تمام کونوں کی طرف کر کے لہرایا، سجدہ کیا اور دوبارہ کھیل پر توجہ مرکوز کی۔
دوسرے اینڈ پر جب حماد مرزا نے کلدیپ کو بیک ٹو بیک چھکوں کے لیے سلگ سویپ کیا تو عمان کا ڈریسنگ روم خوشی سے جھوم اُٹھا تھا۔ پھر انہیں میچ جیتنے کے لیے 16 گیندوں پر 40 رنز کی ضرورت تھی – اس کے لیے ایک معجزہ درکار تھا، لیکن کسی نے انہیں اس حد تک پہنچنے کا موقع نہیں دیا۔
کلیم کے کریز پر قیام کو ختم کرنے کے لیے ہاردک پانڈیا نے فائن لیگ باؤنڈری پر اُن کی ایک اونچی شاٹ پر ناقابل یقین کیچ لیا۔ تب تک، میچ کا نتیجہ شاید ہی اہمیت رکھتا تھا۔
اس موقع پر آؤٹ ہونے سے کلیم کی تھکن اور مایوسی اُن کے چہرے سے عیاں تھی مگر ساتھ ہی انڈیا کے قریب پہنچنے کا اطمینان بھی نمایاں تھا۔
یہ اننگز کھیلنے سے قبل عامر کلیم نے بولنگ کرتے ہوئے انڈیا کے دو بلے باز بھی پویلین بھیجے تھے۔
کپتان جتندر نے اُن کے بارے میں کہا کہ وہ میدان یا ٹریننگ میں سب سے زیادہ توانائی رکھنے والا کھلاڑی ہے، وہ سب سے زیادہ نظم و ضبط والا شخص ہے، حالانکہ اس کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے۔ میدان میں، وہ بجلی کی طرح ہے۔ وہ ٹیم میں بڑی توانائی لاتا ہے، اور وہ اپنے کام میں بہت ہنرمند بھی ہے۔ ہم بہت شکر گزار ہیں کہ وہ ہماری ٹیم کا حصہ ہے۔”
جتیندر خود کمر کی چوٹ کے باعث ریٹائرمنٹ کے دہانے پر تھے، یہاں تک کہ واقعات کے غیرمتوقع موڑ نے انہیں عمان کا کپتان نامزد کر دیا۔
اسے عمان کے کھلاڑی شاہ فیصل کا تعلق پاکستان کے دیر سے ہے اور وہ بھی بہت سے دیگر پاکستانیوں کی طرح روزی کمانے کے لیے عمان آئے، یہاں تک کہ کرکٹ نے اُن کی زندگی میں واپسی کا راستہ تلاش کیا۔
عمان کرکٹ ٹیم کے جیتن رامانندی نے کبھی وڈودرا کے موتی باغ سٹیڈیم میں ہاردک پانڈیا کے خلاف انٹر کلب میچ کھیلا تھا۔ ان سب کھلاڑیوں کی کہانیاں ایک جیسی ہیں۔

