پاکستان

طالبان حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، استنبول مذاکرات ناکام رہے: پاکستان

اکتوبر 29, 2025

طالبان حکومت عوام کی نمائندہ نہیں، استنبول مذاکرات ناکام رہے: پاکستان

پاکستان نے کہا ہے کہ افغان طالبان حکومت سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات کسی قابلِ عمل نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ہیں، طالبان نے الزام تراشی، ٹال مٹول اور حیلے بہانوں کا سہارا لیا۔

بدھ کو ایک بیان میں پاکستان کے وزیراطلاعات نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد پیش کیے، افغان طالبان اور میزبان ممالک نے پاکستان کے شواہد تسلیم کیے مگر کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔

خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 19 اکتوبر کو دوحہ میں ہونے والے مذاکرت کے بعد استنبول میں تین روز سے امن مذاکرات جاری تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ دوحہ اور استنبول میں مذاکرات کا واحد ایجنڈا دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت افغان عوام کی نمائندہ نہیں اور اپنی بقا کے لیے جنگی معیشت پر انحصار کرتی ہے اور اپنے عوام کو غیر ضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

’پاکستان نے افغان طالبان سے انڈین حمایت یافتہ فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور فتنہ الہند (بی ایل اے) کی سرحد پار دہشت گردی پر بارہا احتجاج کیا، افغان طالبان کے وفد نے پاکستان کے منطقی اور جائز مطالبات تسلیم کیے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ قطر اور ترکیہ کی درخواست پر پاکستان نے امن کے لیے ایک اور موقع دیا، مذاکرات کے دوران پاکستان نے افغان طالبان حکومت سے دوحہ معاہدے کے تحریری وعدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے پاکستان مخالف دہشت گردوں کی مسلسل حمایت پر پاکستان کی کوششیں بے سود رہیں۔ افغان طالبان حکومت، افغان عوام کو غیرضروری جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے