ضمیر اجازت نہیں دیتا، وکیل کی بیان سے عدالت کو ہلانے کی کوشش
ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کے لیے ریاستی خرچ پر مقرر کردہ سٹیٹ کونسل (سرکاری وکیل) نے عدالت میں پراسیکیوشن کا پول کھول دیا۔
منگل کو اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ایند سیشن جج افضل مجوکہ کی عدالت میں سرکار کی طرف سے ملزمان کے دفاع کے لیے نامزد وکیل نے بتایا کہ انہیں جرح کے لیے کچھ سوالات دیے گئے، ان کا ضمیر گوارہ نہیں کرتا کہ وہ ڈکٹیٹ کرائے گئے سوالات جرح کے دوران کریں اس لیے مقدمے کو شفافیت سے چلانے اور انہیں تیاری کے لیے کچھ وقت دیا جائے۔
قبل ازیں مقدمے میں نامزد (ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ) نے عدالت سے وکیل کرنے کے لیے مناسب وقت مانگا جس پر پہلے انکار کیا گیا۔ بعد ازاں ایمان مزاری نے ایڈوکیٹ سمیع وزیر اور ہادی علی نے ایڈوکیٹ ہاشم شیرانی کو وکیل مقرر کیا۔
سماعت کے دوران جب جج مجوکہ نے ہدایت کی کہ جرح کریں تو ملزمان اور اُن کے وکلا نے کہا کہ عدالت نے شہادتیں غیرموجودگی میں ریکارڈ کیں اس لیے جرح ممکن نہیں۔ ملزمان کے وکلا کی موجودگی میں گواہان کی شہادتیں ریکارڈ کی جائیں تاکہ جرح کی جا سکے، قانونی طور پر ملزمان اور اُن کے وکلا کی غیرموجودگی میں شہادتیں ریکارڈ نہیں کی جا سکتیں۔
جج افضل مجوکہ نے کہا کہ عدالتی کارروائی درست ہوئی اور غیرموجودگی میں ریکارڈ کیے گئے شواہد/شہادتوں پر ہی جرح کی جائے گی۔
اس کے بعد جج نے کہا کہ ملزمان اور اُن کے وکلا اگر جرح نہیں کرتے تو سرکاری وکیل فراہم کیے جانے کا حکم جاری کرتا ہوں۔
جج کی جانب سے لگائے گئے سٹیٹ کونسل نے بعد ازاں عدالت میں بیان دیا کہ اُن کو ڈکٹیٹ کرائے گئے سوال دیے ہیں جو شفاف مقدمہ چلانے کے آئینی حق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آج کی عدالتی کارروائی کے تحریری آرڈر میں جج نے لکھا کہ ملزمہ ایمان مزاری نے وکیل کے بیان پر کہا کہ اس عدالت کا کوئی ضمیر نہیں۔
جج کے مطابق اس قابل اعتراض جملے کے باوجود عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔
مقدمے سے الگ ہونے کے بعد عدالت کے باہر گفتگو میں وکیل شکیل احمد جٹ نے بتایا کہ اُن کو کیس کی فائل دینے کے بجائے سرکار نے 15 سوال دیے کہ یہ پوچھنے ہیں۔ وکیل کے مطابق اُن کا ضمیر اس طرح کے مقدمے میں پیش ہونا گوارا نہیں کرتا۔

