ملزمان کا اپنے لیے مقرر سرکاری وکیل پر عدم اعتماد، جج کا ٹرائل چلانے پر اصرار
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ کے خلاف ٹویٹس کے مقدمے کی سماعت کے دوران ملزمان وکلا کو کمرہ عدالت سے نکال دیا ہے۔
سنیچر کو مقدمے کی سماعت میں نہایت غیرمعمولی صورتحال اُس وقت پیش آئی جب دونوں ملزمان وکلا نے اپنے لیے مقرر کردہ سٹیٹ کونسل پر اعتراض اور عدم اعتماد کیا اور کہا کہ وہ اُن کی جانب سے جرح نہیں کر سکتے۔
دوسری جانب جج افضل مجوکہ اور ریاست کی جانب سے مقرر کردہ کونسل بضد رہے کہ وہی جرح کریں گے۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے جرح نہ کرانے کے اصرار پر جج افضل مجوکہ نے دونوں ملزمان کو ہی عدالت سے باہر نکالنے کا حکم دے کر اُن کی عدم موجودگی میں اسٹیٹ کونسل سے گواہان پر جرح شروع کرا دی۔
اِس سے قبل مقرر کردہ سٹیٹ کونسل اِس ٹرائل میں بغیر کیس فائل کے لکھے لکھائے سوالات پوچھنے کی ہدایات کے باعث خود کو مقدمے سے الگ کر چکے ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے عدالت کے باہر میڈیا کو بتایا کہ اُن کو سزا سنانے کے لیے کاغذی کارروائی کی جا رہی ہے۔
ہادی علی چٹھہ نے مقدمے سے بریت کے لیے دائر درخواست پر خود دلائل دیے۔
طویل دلائل میں اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے سنہ 2005 میں ٹوئٹر/ایکس اکاؤنٹ بنایا جبکہ مقدمہ درج کرانے والوں کا الزام ہے کہ سنہ 2021 سے ایمان مزاری کی ٹویٹس کو ریٹویٹ کر کے پھیلا رہے ہیں۔
ہادی علی چٹھہ ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اُن پر ایمان مزاری کے ٹویٹس کو زیادہ لوگوں تک پھیلانے کا الزام ہے جبکہ اُن کے فقط چھ ہزار فالوورز ہیں اور ایمان مزاری کے ایکس اکاؤنٹ کو تین لاکھ سے زائد افراد فالو کرتے ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ اس طرح یہ مقدمہ بنیادی طور پر انتہائی مضحکہ خیز ہے جس کی کوئی قانونی دلیل ہی نہیں۔

