اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج کے کمسن بیٹے کی گاڑی کی ٹکر سے دو نوجوان لڑکیاں ہلاک
اسلام آباد میں وی ایٹ گاڑی سے سکوٹی پر سوار دو نوجوان لڑکیوں کو کچل کر ہلاک کرنے والے کمسن ڈرائیور کو پولیس نے عدالت میں پیش کر کے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے۔
منگل کی سہ پہر اسلام آباد پولیس نے ابوذر نامی ملزم ڈرائیور کو مقامی عدالت پیش کیا جہاں عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ملزم کو 4 روز کے لیے پولیس کے حوالے کیا۔
ملزم ڈرائیور اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف کا بیٹا بتایا جاتا ہے۔
روڈ ایکسیڈنٹ کا ہولناک واقعہ منگل کو رات سوا ایک بجے سیکریٹریٹ چوک میں میٹرو سٹیشن اور پی ٹی وی کے سامنے پیش آیا۔
تھانہ سیکریٹریٹ میں درج مقدمے کے مطابق مطابق ثمرین حسین (عمر 25 سال) اپنی سہیلی تابندہ بتول کے ہمراہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس سے سکوٹی پر واپس گھر کی جانب آ رہی تھیں جب ایک تیز رفتار سفید رنگ کی وی ایٹ گاڑی نمبر AYE-379 نے انہیں ہٹ کیا جس سے دونوں کو شدید چوٹیں آئیں۔
زخمی لڑکیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا مگر جانبر نہ ہوسکیں
پولیس رپورٹ کے مطابق حراست میں لیے جانے کے وقت ملزم ڈرائیور ابوذر کے پاس ڈرائیونگ لائسنس تھا اور نہ ہی شناختی کارڈ۔

