جعلی ڈگری کیس، جسٹس طارق جہانگیری کو نوٹس جاری
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا ہے کہ تعلیمی ریکارڈ سے یہ بات واضح ہو گیا کہ جسٹس جہانگیری کبھی کراچی یونیورسٹی کے طالبعلم نہیں رہے۔
منگل کو مقدمے کی سماعت کے دوران ایک موقع پر اسلام آباد بار کونسل کے ممبر ایڈووکیٹ راجہ علیم عباسی نے کیس دوسرے بینچ میں بھیجنے کی استدعا کرتے ہوئے جسٹس ڈوگر کو بتایا کہ جسٹس جہانگیری اُن کے خلاف درخواست گزار ہیں، اس طرح اس مقدمے میں آپ ایک متاثرہ فریق بھی ہیں تو کسی اور بینچ کو بھیج دیں کیونکہ کوئی بھی فرد اپنی کاز کا جج نہیں ہو سکتا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دوسرا قانونی نکتہ یہ ہے کہ یہ آرٹیکل 209 کا معاملہ ہے اور سپریم جوڈیشل کونسل کو دیکھنا چاہیے جس کا آئینی اختیار ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی کے ڈگری منسوخ کرنے فیصلے کو معطل کر رکھا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ نہیں، انہوں نے صرف مزید کارروائی سے روکا ہے۔
وکیل نے بتایا کہ نہیں سر ! سندھ ہائیکورٹ نے کراچی یونیورسٹی کے ڈیکلریشن کو معطل کیا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ ایسا نہیں کیا گیا۔
وکیل راجہ علیم عباسی نے کہا کہ دیکھ لیجیے ایک عدالت نے حکمِ امتناع جاری کر رکھا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اَن سنی کرتے ہوئے آرڈر لکھوا دیا۔
دلائل کے اختتام پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے کر جسٹس طارق محمود جہانگیری کو نوٹس جاری کر دیا۔
کیس کا پس منظر
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی مبینہ جعلی ڈگری کی جانچ کے لیے درخواست پر معاملات کو اُس وقت پہیے لگے جب اُنہوں نے فارم 47 کے نتائج کو تمام فارم 45 منگوا کر پرکھنے کی کوشش کی۔
اُس کے بعد کیس اُن سے لے کر نیا الیکشن ٹریبیونل تشکیل دیا گیا جس نے آج تک درخواستوں کی سماعت ہی نہیں کی۔
فارم 47 اور فارم 45 کا مقدمہ تو وہیں رہ گیا مگر جسٹس جہانگیری کو خود اپنے خلاف درخواستوں کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ طارق جہانگیری نے اسی پر ایک دہائی وکالت کی۔ اُن کو جج لگانے کے لیے جب نامزد کیا گیا تو جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کے سامنے اُن کا مکمل ذاتی، خاندانی، تعلیمی اور وکالت کا ریکارڈ لایا گیا۔
خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس بھی اُن کے حق میں تھیں تب جج لگائے گئے۔
وہ جوانی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے اور آصف زرداری کے نہایت قریب رہے۔
اگر اب اُن کی ڈگری جعلی قرار دی جاتی ہے تو کیا یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ نادیدہ قوتیں ایسے وکلا کو جج لگانے کے لیے کلین چٹ دیتی ہیں جن کی اُن کے پاس کوئی کمزوری ہو؟ اور جب وہ بوقت ضرورت کام نہ آئیں تو بلیک میلنگ کے لیے ایسے حربے استعمال کیے جاتے ہیں؟
جسٹس جہانگیری کے معاملے میں سب سے اہم یہ ہے کہ اُن کو نکالنے کے لیے آئینی طریقہ کار اختیار نہیں کیا جا رہا۔ اعلیٰ عدلیہ کے کسی بھی جج کو مس کنڈکٹ پر گھر بھیجنے کے لیے آئینی فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے۔
مگر اُن کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کی سماعت کر رہی ہے جس کے چیف جسٹس کے خلاف وہ خود درخواست گزار رہے ہیں کہ اُن کا ٹرانسفر اور سینیارٹی درست نہیں۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ لاہور کے ایک وکیل کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔
ایچ ای سی نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کے متعلق کراچی یونیورسٹی کا ریکارڈ اور رپورٹ جمع کرایا ہے۔
کراچی یونیورسٹی کے جواب کے مطابق سال1989میں طارق محمود پر اَن فیئر مینز کمیٹی 3 سال کی پابندی لگا چکی تھی، کمیٹی نے نقل کرنے اور ایگزامنر کو دھمکیاں دینے کا الزام ثابت ہونے پر طارق محمود پر 3 سالہ پابندی لگائی تھی۔
کراچی یونیورسٹی کے مطابق 1989 کے فیصلے کے تحت طارق محمود 1992 میں دوبارہ امتحان دینے کے لیے اہل تھے، پابندی کے خلاف طالبعلم طارق محمود نے ڈگری حاصل کرنے کے لیے 1990 کا جعلی انرولمنٹ فارم استعمال کیا۔
جعلی انرولمنٹ فارم پر طالبعلم طارق محمود نے گورنمنٹ اسلامی کالج کی جعلی مہر استعمال کی، طارق محمود کے سال 1988 کے ایل ایل بی پارٹ ون کی مارکس شیٹ پر درج انرولمنٹ نمبر AIL 4407/82 بھی بوگس ہے اور نام بھی غلط تھا۔
یونیورسٹی ریکارڈ کے مطابق سال 1988 کی مارکس شیٹ پر درج انرولمنٹ نمبر ریگولر طالبعلم محمد نعیم الدین کو الاٹ ہوچکا تھا۔
یونیورسٹی کے عدالت کو دیے گئے جواب کے مطابق طارق محمود کی ڈگری پر انرولمنٹ نمبر 5968/87 بھی امتیاز احمد نامی طالبعلم کو الاٹ ہوا ہے۔ طارق محمود نے 1990 میں ایل ایل پارٹ 2 کیلئے بھی 7184/87 انرولمنٹ نمبر جعلسازی سے حاصل کیا۔
نام اور انرولمنٹ نمبر بدل بدل کر مارکس شیٹس اور ڈگری حاصل کی گئیں۔
شہری عرفان مظہر نے 23 مئی 2024 کو طارق محمود کے انرولمنٹ نمبروں کا حوالہ دیتے ہوئے ڈگری کی تصدیق کی درخواست دی۔
شہری کی درخواست کے ردعمل میں یونیورسٹی نے دوبارہ دونوں انرولمنٹ نمبروں کی جانچ پڑتال کی۔
کنٹرولر ایگزامنیشن نے کو دوہرے انرولمنٹ نمبرز کو ناممکن قرار دیتے ہوئے ڈگری اور مارک شیٹس کو غلط قرار دیا۔
رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے 5 جولائی 2024 کو بذریعہ ای میل کنٹرولر ایگزامیشن کے لیٹر کی تصدیق مانگی۔
رجسٹرار ہائیکورٹ کی ای میل کے جواب میں یونیورسٹی نے ڈگری کو غلط قرار دینے کے مراسلے کی تصدیق کی۔
پرنسپل اسلامیہ کالج نے تصدیق کی کہ طارق محمود 1984 تا 1991 تک کبھی کالج میں طالب علم ہی نہیں رہا۔
یہاں یہ واقعہ بھی اہم ہے کہ کراچی یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس میں جسٹس جہانگیری کی ڈگری کو جعلی قرار دینے کے لیے ایک رکن پروفیسر کو اغوا بھی کیا گیا تھا تاکہ وہ حقائق بتانے کے لیے شرکت نہ کر سکیں۔

