متفرق خبریں

ایمان مزاری کیس، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک روک دیا

دسمبر 11, 2025

ایمان مزاری کیس، سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے تک روک دیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی سرگرم وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف پیکا قانون کے تحت ٹرائل کو اُس وقت تک روکنے کی ہدایت کی ہے جب تک اسلام آباد ہائیکورٹ میں اُن کی جانب سے دائر درخواست کا فیصلہ نہیں کر لیا جاتا۔

جمعرات کو جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمہ پیکا قانون 2016 کے تحت بنایا گیا ہے، تو اُن کے ساتھ روسٹرم پر کھڑے سرکاری وکیل (ڈپٹی اٹارنی جنرل) رانا اسد الرحمان نے مداخلت کی۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ آرٹیکل 185 کے تحت اس درخواست کے قابلِ سماعت ہونے کو بھی دیکھا جائے۔
وکیل فیصل صدیقی نے اس جلد بازی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وکیل نے وہی والی بات کی ہے کہ ’میں گونگا نہیں ہوں۔‘
عدالت میں موجود افراد اس جملے پر ہنس پڑے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے سرکاری وکیل کو مخاطب کر کے کہا کہ ’وہ بھی ہم دیکھیں گے، آپ اپنی باری کا انتظار کریں۔‘
کیونکہ عدالتی طریقہ کار کے تحت قانونی طور پر پہلے درخواست گزار کو سنا جاتا ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے کیس چلاتے ہوئے طریقہ کار نہیں اپنایا اور ایک ہی ساتھ پانچ گواہوں کے بیانات قلمبند کر کے جرح بھی مکمل کر لی۔
اُن کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق ایک گواہ کا بیان لینے کے بعد اُس پر جرح کی جاتی ہے پھر اگلے گواہ کی باری آتی ہے۔
بینچ کی جانب سے سوال پر وکیل نے بتایا کہ ہائیکورٹ سے کریمنل رویژن میں رجوع کیا مگر وہاں درخواست زیرِالتوا رکھی گئی ہے اور ٹرائل کورٹ میں سماعت جاری ہے۔ ’ٹرائل کورٹ میں بھی استدعا کی کہ ہائیکورٹ میں درخواست کا فیصلہ ہونے تک کارروائی روک دی جائے مگر نہیں سُنا گیا۔‘

مقدمے کے بارے میں بتاتے ہوئے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی نے کہا کہ ’22 اگست کو مقدمہ درج کیا گیا جبکہ 30 اکتوبر کو عدالت نے فردِ جرم عائد کر دی۔‘
بینچ کے سربراہ نے وکیل سے ٹرائل کورٹ کا حکمنامہ پڑھنے کے لیے کہا۔ وکیل فیصل صدیقی نے جج افضل مجوکہ کا آرڈر پڑھا۔ اور بتایا کہ ’سارے گواہوں کے ایک ساتھ بیانات قلمبند کر کے جرح کرانے پر ہم احتجاجا ٹرائل کورٹ سے نکل گئے تھے۔‘

جسٹس صلاح الدین پنہور نے جج افضل مجوکہ کے آرڈر کو دیکھنے کے بعد کہا کہ ’اگر ٹرائل ہو رہا ہے تو آپ کیوں تاخیر کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔‘
وکیل نے بتایا کہ تاخیر نہیں چاہتے صرف طریقہ کار کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں۔ ’جسٹس ہاشم کاکڑ کے ماضی میں دیے گئے فیصلے کا حوالہ دینا چاہوں گا کہ طریقہ کار اختیار کرنا کتنا ضروری ہے۔‘
بینچ کے سربراہ نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’آپ کی مجھ سے کوئی خاص دشمنی ہے جو میرے ہی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں۔‘

اس کے بعد جسٹس کاکڑ نے ازراہِ مذاق کہا کہ ’یہ تو ایک جونیئر وکیل کیس میں پیش ہوا تھا جس کو اکاموڈیٹ کرنے کے لیے میں نے یہ فیصلہ دیا تھا۔‘
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ’سر، یہ کرتے ہوئے آپ نے فوجداری مقدمات میں جورسپوڈنس (فقہ/طریقہ کار) وضع کر لیا۔‘
جسٹس صلاح الدین پنہور نے کہا کہ درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے اس بارے میں بات کرنا شروع کی تو بینچ کے سربراہ نے پر کہا کہ ’یہ کیس ہم نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا اور اخبارات میں چل رہا ہے۔‘
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ہنستے ہوئے وکیل سے کہا کہ ’آپ ہم سے کیا چاہتے ہو، وہ بتاؤ۔‘
سرکاری وکیل نے کہا کہ صرف نوٹس ہے آرڈر تو نہیں ہے، سپریم کورٹ کیسے سُںے۔

وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ وہ بھی کوئی آرڈر لینے نہیں آئے، صرف یہ چاہتے ہیں کہ ٹرائل کورٹ کو ہائیکورٹ میں زیرِالتوا درخواست پر فیصلے تک روکا جائے۔‘
بینچ کے سربراہ نے سرکاری وکیل سے کہا کہ ’ہم آپ کی مجبوری سمجھتے ہیں، ہم نے بھی سٹوڈنٹ لائف میں یہ سب کیا ہے۔ انہوں نے یہی سب کرنا ہے، بولنا ہے، آپ اُن کا منہ بند نہیں کر سکتے، آپ بند کریں گے تو وہ مزید بولیں گے۔‘
اس کے بعد درخواست گزار کے وکیل سے کہا کہ ’ٹرائل کورٹ کے جج کو پریشرائز کرتے ہیں، یہ دونوں (ملزمان) وکیل ہیں۔ سیشن جج، ہائیکورٹ کو بے توقیر نہیں کرنے دیں گے۔ یہ بینچ نہیں کرے گا۔ وکلا کر مل کر دباؤ ڈالیں ایسا نہیں ہونے دیں گے۔‘

جسٹس ہاشم کاکڑ نے سرکاری وکیل سے کہا کہ ’آپ بھی مادر پدر آزاد نہیں کہ جس کو مرضی سزا دیں۔‘
بینچ کے سربراہ نے آبزرویشن دی کہ ’کیس چلانے کے لیے ملزمان اور اُن کے وکلا کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے مگر یہ عدالت کا کام ہوتا ہے کہ وہ تمام فریقوں کو وقت دے، سنے اور فیصلہ کرے۔‘
وکیل فیصل صدیقی نے کچھ کہنا چاہا تو جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ’ایسا مت کریں، ایک دن میں کوئی پھانسی نہیں لگا دے گا۔ فیئر ٹرائل بنیادی آئینی ضمانت ہے۔ کچھ ہوا تو متعلقہ عدالت سے رجوع کریں۔‘
وکیل نے کہا کہ ’اس شہر میں اب ہم صرف آپ کے پاس آ سکتے ہیں۔‘

جسٹس کاکڑ نے کہا کہ ’یہ سیاسی بیان ہے۔‘ وکیل نے کہا کہ ’نہیں سر، یہ سیاسی بیان نہیں ہے۔‘
بینچ کے سربراہ نے آبزرویشن دی کہ ’کیس چلانے کے لیے ملزمان اور اُن کے وکلا کی اپنی حکمت عملی ہوتی ہے مگر یہ عدالت کا کام ہوتا ہے کہ وہ تمام فریقوں کو وقت دے، سنے اور فیصلہ کرے۔‘
اس کے بعد عدلتی بینچ نے روسٹرم پر موجود درخواست گزار کے وکیل اور سرکاری وکیل سے کہا کہ دونوں کے اتفاق سے اس معاملے کو نمٹا دیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے حکمنامے میں لکھا کہ ’ہم ان شرائط کے ساتھ کیس کا فیصلہ کرتے ہیں: ’ہم توقع کرتے ہیں کہ اسلام آباد ہائیکورٹ فریقوں کو سماعت کا پورا موقع فراہم کرنے کے بعد جلد از جلد درخواست پر فیصلہ کرے گی۔ ایڈیشنل/ سیشن جج کی عدالت اپنی کارروائی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پر حکم جاری ہونے تک روک دے گی۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے