متفرق خبریں

بنگلہ دیش میں دوبارہ احتجاج اور فسادات، انڈیا پر الزام کیوں؟

دسمبر 19, 2025

بنگلہ دیش میں دوبارہ احتجاج اور فسادات، انڈیا پر الزام کیوں؟

بنگلہ دیش میں گزشتہ برس کی بغاوت میں سرگرم کردار ادا کرنے والے ایک رہنما کی موت کے بعد دارالحکومت ڈھاکہ میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور مظاہرین نے توڑ پھوڑ بھی کی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے اپی) کے مطابق جمعرات کی شب مشتعل مظاہرین نے ڈھاکہ میں دو اخباروں کے دفاتر کو آگ لگائی اور صحافیوں اور دیگر سٹاف کو عمارت میں محبوس رکھا۔

اس کے چند گھنٹے بعد صحافیوں اور سٹاف کو عمارتوں سے بحفاظت نکالا گیا جبکہ جمعے کی صبح آگ پر بھی قابو پا لیا گیا۔

ابھی تک ان اخباروں کے دفاتر پر حملے کی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں جن کے ایڈیٹرز کے بارے تأثر یہ ہے کہ ان کے عبوری حکومت کے ساتھ سربراہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

گزشتہ چند ماہ میں اسلام پسند تنظیموں کی جانب سے ان اخبارات کے دفاتر کے باہر مظاہرے کیے جاتے رہے اور ان کا دعویٰ تھا کہ ان اخبارات کے مبینہ طور پر انڈیا کے ساتھ روابط ہیں۔

’انقلاب مونچو کلچر گروپ‘ کے ترجمان شریف عثمان ہادی جمعرات کی شام سنگاپور کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گئے تھے جہاں وہ گزشتہ ایک ہفتے سے زندگی اور موت کی کشمکش میں تھے۔

عثمان شریف ہادی کو گزشتہ جمعے کو ڈھاکہ میں اس وقت فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ ایک رکشے پر سوار تھے۔

ان کا پیچھا کرنے والے دو موٹر سائیکل سواروں نے ان پر گولیاں برسائیں اور پھر وہ موقعے سے فرار ہو گئے۔ شریف عثمان ہادی کو چند دن ڈھاکہ کے ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد سنگین حالت میں سنگاپور منتقل کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملہ آوروں کی شناخت کر لی ہے اور وہ غالباً انڈیا فرار ہو چکے ہیں۔
حکام کے اس بیان کے بعد بنگلہ دیش اور انڈیا کے درمیان سفارتی سطح پر تناؤ دیکھنے میں آیا ہے اور نئی دہلی نے رواں ہفتے بنگلہ دیش کے سفیر کو طلب کر کے بنگلہ دیش کے اس الزام کی مذمت کی۔

اس کے ردعمل میں بنگلہ دیش نے بھی انڈیا کے سفیر کو بلا کر وضاحت طلب کی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے