کھیل

نسلی تعصب کا سامنا رہا، آسٹریلیا کے پہلے مسلمان کرکٹر عثمان خواجہ ریٹائرڈ

جنوری 2, 2026

نسلی تعصب کا سامنا رہا، آسٹریلیا کے پہلے مسلمان کرکٹر عثمان خواجہ ریٹائرڈ

آسٹریلیا کے بلے باز عثمان خواجہ نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے جذباتی انداز اختیار کیا جس پر اب گفتگو ہو رہی ہے.

ایشز سیریز کے آخری سڈنی ٹیسٹ میں وہ اپنے 15 سالہ کیریئر کا آخری ٹیسٹ کھیلیں گے۔ عثمان خواجہ نے یہ اعلان جمعے کو اپنی فیملی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔

انہوں نے پہلی بار اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے نسلی امتیاز پر بھی بات کی ہے۔
عثمان خواجہ پاکستانی نژاد اور پہلے مسلمان کرکٹر ہیں جنہوں نے آسٹریلیا کی ٹیم میں اپنی جگہ بنائی۔

عثمان جب پانچ برس کے تھے وہ اپنے خاندان کے ساتھ اسلام آباد سے آسٹریلیا منتقل ہو گئے تھے۔ ان کی ٹیسٹ سے ریٹائرمنٹ کی خبر تو مقامی میڈیا میں چل رہی ہے لیکن ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک پر کوئی کوریج نظر نہیں آئی۔

عثمان خواجہ اب تک آسٹریلیا کے لیے 87 ٹیسٹ میچز کھیل چکے ہیں جن میں انہوں نے 60206 رنز کیے اور 16 سینچریاں بنائیں۔

عثمان خواجہ نے 2010/11 کے ایشز سیریز میں سڈنی میں ہی اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا۔

موجودہ ایشز میں انہیں ایڈیلیڈ ٹیسٹ سے پہلے ڈراپ کر دیا گیا تھا۔ اس وقت ایسا لگ رہا تھا کہ عملی طور پر ان کا ٹیسٹ کیریئر ختم ہو گیا ہے۔ تاہم سٹیو سمتھ کے اچانک بیمار ہونے کے باعث انہیں ٹیم میں شامل کر لیا گیا اور انہوں نے پہلی اننگز میں 82 رنز کی شاندار اننگز کھیلی تھی۔

پرتھ ٹیسٹ سے قبل گولف کھیلنے کے باعث عثمان خواجہ ان فٹ ہو گئے تھے۔ میڈیا اور سابق پلیئرز نے ایشز ٹیسٹ سے قبل تین دن گولف کھیلنے پر خواجہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
’جس انداز سے سب نے میری تیاری کے حوالے سے مجھے تنقید کا نشانہ بنایا، وہ انتہائی ذاتی نوعیت کا حملہ تھا، جیسے یہ کہنا کہ میں ٹیم کے لیے سنجیدہ نہیں ہوں، میں صرف اپنی فکر کرتا ہوں، میں نے میچ سے ایک دن پہلے گالف کھیلا، میں خود غرض ہوں، میں اتنی ٹریننگ نہیں کرتا، میں سست ہوں۔ یہ وہی سٹیریو ٹائپ ہیں، وہی نسلی تعصبات ہیں جن کے ساتھ میں نے اپنی پوری زندگی گزاری۔‘

ماضی میں بھی آسٹریلین کرکٹرز گولف کھیلنے کی وجہ سے انجری کا شکار ہو چکے ہیں۔ عثمان خواجہ کے مطابق ان کھلاڑیوں کو اس طرح کی تنقید کا سامنا نہیں کرنا پڑا جس طرح سے انہیں ہدف بنایا گیا۔

’شاید ایسے کھلاڑی جو میچ سے ایک رات پہلے 15 گلاس بیئر پی کر آئے اور ان فٹ ہو گئے ان کے بارے میں کسی نے ایک لفظ نہیں کہا۔ لیکن جب مجھے انجری ہوئی سب نے میری ساکھ اور ذات پر سوال اٹھائے۔‘

’میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، میں کافی عرصے سے ان چیزوں کا سامنا کرتا آ رہا ہوں اور جب میں یہاں اس موضوع پر بات کر رہا ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ میں نسلی کارڈ استعمال کر رہا ہوں، don’t gaslight me۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں خوش قسمت ہوں کہ آسٹریلیا کے لیے کئی گیمز کھیلنے کا موقع ملا، مجھے امید ہے کہ میں لوگوں کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے پاکستانی اور مسلمان ہونے پر فخر ہے، جس کے بارے میں یہ کہا گیا کہ وہ آسٹریلیا کے لیے کبھی نہیں کھیل سکے گا۔‘

انہوں نے دوسرے نوجوان کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’میری طرف دیکھو، تم بھی ایسا کر سکتے ہو۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے