متفرق خبریں

امارات اور سعودی عرب میں کشیدگی کیوں اور کیسے شروع ہوئی، سی این این کی رپورٹ

جنوری 6, 2026

امارات اور سعودی عرب میں کشیدگی کیوں اور کیسے شروع ہوئی، سی این این کی رپورٹ

‎امریکی نیوز چینل سی این این نے کہا ہے کہ ریاض اور ابوظبی کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کی وجہ وہ غلط اطلاع ہو سکتی ہے جو متحدہ عرب امارات کو سعودی ولی عہد کے حالیہ واشنگٹن دورے کے بارے میں دی گئی۔

‎عرب نیوز کے مطابق امریکی نیوز چینلز کے ذرائع کے مطابق سعودی عرب کا ماننا ہے کہ ابوظبی نے اپنی حمایت یافتہ علیحدگی پسند جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی)  کی فورسز کو سعودی سرحد کے قریبی صوبوں میں متحرک کیا۔

‎اور اس کی وجہ یہ غلط اطلاع تھی کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نومبر میں وائٹ ہاؤس کے دورے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا تھا کہ ابوظبی پر پابندیاں لگائی جائیں، کیونکہ وہ سوڈان کی خانہ جنگی میں کسی جنگجو گروپ کی حمایت کر رہا ہے۔ 

سی این این کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ ریاض نے متحدہ امارات سے رابطہ کر کے کہا ہے کہ اس کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔

امریکی چینل کے مطابق شناخت ظاہر نہ کی شرط پر ایک اماراتی عہدیدار سے جب جھوٹی معلومات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کا براہ راست جواب نہیں دیا۔

نومبر میں ہونے والے دورے کے موقع پر صدر ٹرمپ نے عوامی سطح پر یہ اعلان نہیں کیا تھا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد کی درخواست کی بنیاد پر اپنی حکومت کو سوڈان میں جاری خونریز تنازع کے حل کے لیے مداخلت کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اس وقت نہ تو صدر اور ولی عہد کا کوئی بیان سامنے آیا اور نہ ہی سعودی یا امریکی میڈیا کی کسی رپورٹ میں متحدہ عرب امارات کا کوئی حوالہ دیا گیا تھا۔

30 نومبر کو ریاض نے فضائی حملے کیے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی یمن جانے والی کھیپ تھی جو فوجی ساز و سامان پر مشتمل تھی اور اتحاد کے ساتھ مربوط نہیں تھی۔

مملکت نے یمنی حکومت کے اس مطالبے کی حمایت بھی کی جس میں متحدہ امارات کو ملک چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔
ابوظبی کی جانب سے اس پر رضامندی ظاہر کی گئی اور بیان جاری کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسا اس نے اپنی مرضی سے کیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے