ایبٹ آباد میں بلدیہ کے ڈرائیور نے غفلت سے کچرا چُننے والا بچہ کُچل دیا
ایبٹ آباد کے تھانہ نواں شہر کی حدود میں بلدیہ کے ڈمپر سے کُچلے جانے والے کچرا چُنتے افغان بچے کی موت واقع ہو گئی ہے۔
درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق دس برس کا سردار ولی کو یکم رمضان کو بلدیہ کے ڈمپر ڈرائیور کی غفلت کے باعث کوڑے دان اور گاڑی کے درمیان پھنس گیا تھا۔
مرنے والے بچے کے والد عثمان علی نے پاکستان24 کو بتایا کہ وہ افغان شہری ہے اور 15 برس سے ایبٹ آباد کے مضافات میں مُقیم ہے جہاں اُس کے بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔
حادثے کے وقت سردار ولی کے ساتھ اُس کی 12 سالہ بہن عائشہ بھی تھی۔ دونوں ایک ریڑھی میں کوڑے سے چیزیں اُٹھا کر ڈال رہے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق اسی دوران بلدیہ کا ڈمپر آیا اور ڈرائیور نے بے احتیاطی یا غفلت سے سردار ولی کو کوڑے کے ڈرم اور گاڑی کے درمیان دبا دیا۔ بچوں کے چیخنے کے بعد ڈرائیور نیچے اُترا۔
بچے کے والد کے مطابق زخمی سردار ولی کو کوڑے والی ریڑھی میں ڈالا اور اُس کی بہن کو کہا کہ اس کو گھر لے جاؤ۔ اور کسی کچھ نہیں بتانا۔
اس دوران سردار ولی درد سے کراہتا رہا، اور پھر بے ہوش ہو گیا. اُس کی بہن دیکھتی رہی۔ چند راہ گیروں نے ریسکیو ایمبولینس کو فون کر کے بُلایا۔
زخمی بچے کو ایبٹ آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کر دیا۔ بچی نے گھر جا کر والد عثمان علی کو بتایا۔ وہ ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے آگاہ کیا کہ بچے سینے میں خون جم گیا ہے، اگر بروقت لایا جاتا تو جان بچائی جا سکتی تھی۔
سردار ولی کے والد عثمان علی نے پاکستان24 کو بتایا کہ وہ تھانے گئے تھے جہاں اب مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تھانہ نواں شہر پولیس نے عثمان علی کو بتایا کہ بلدیہ والوں سے بات کر لیں، نہیں تو ملزم ڈرائیور کی ضمانت ہو جانی ہے۔
عثمان علی نے پاکستان24 سے گفتگو میں الزام عائد کیا کہ بلدیہ والوں نے اُس کو بتایا کہ تُم افغان ہو، تمہاری یہاں کون سُنے گا۔ ڈرائیور سرکاری ملازم ہے اور اُس کے پاس لائسنس بھی ہے۔
عثمان علی نے بتایا کہ حادثے ہو جاتے ہیں مگر دُکھ اس بات کا ہے کہ بچے کو کچلے جانے کے بعد معصوم بہن کی ریڑھی میں ڈال کر دھمکایا گیا۔ اگر انسانیت ہوتی اور ہسپتال پہنچایا جاتا تو بچ سکتا تھا۔

